فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
دوست را برمن نظر شد دوختہ حیف من با دیگراں دل دوختہ وہ محبوبِ حقیقی تو مجھ پر اپنی خاص نظرِ عنایت کیے ہوئے ہے لیکن افسوس کہ میں نے اپنا دل غیروں سے لگایا ہو ا ہے۔ من گنہ آرم تو ستاری کنی جرمِ من آرم تو معذاری کنی میں گناہ کرتا ہوں اور آپ ستّاری وپردہ پوشی فرماتے ہیں ۔ میں جرم کرتا ہوں اور آپ اپنے کرم سے معاف فرمادیتے ہیں۔ جرم ہا بینی و خشمے ناوری اے بقربانت چہ نیکو داوری اے اللہ! میرے جرائم کو آپ دیکھتے ہیں لیکن اپنا قہر وغضب مجھ پر نازل نہیں فرماتے یہ آپ کا احسان وکرم ہے ورنہ اے اللہ! آپ سے کون بچ کر جاسکتا ہے۔ پس اے میرے مالک! آپ کے اس احسان وکرم پر میں فدا ہوں۔ در مصائب در حوادث ہائے زار چوں کہ برمن تنگ شد از درد کار جب مصائب وحوادث وآفات سے زندگی اور زندگی کے اوقات مجھ پر تنگ ہوئے اور میں ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَ ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمۡ اَنۡفُسُہُمۡ؎کی سخت اُلجھن اور گھٹن میں مبتلا ہوگیا۔ یار و خویشانم مرا بگزار دند زار در دست غمم بسپار دند ------------------------------