فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
انتقام نہیں لیتے اور اپنے بندوں سے ہمیشہ حلم وکرم کا معاملہ فرماتے ہیں۔ بردلِ من سی صد و شصت از نظر می کنی ہر روز اے ربّ البشر اے تمام انسانوں کے رب! سال میں تین سو ساٹھ دن ہیں، لیکن آپ کی رحمت پر قربان کہ آپ ہر روز ہمارے دل پر تین سو ساٹھ بار نظرِ کرم فرماتے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ بے شمار رحمت ہمارے دلوں پر محیط ہے۔ ان کی رحمت کا کیا ٹھکانہ ہے۔ لیک من غافل ز لطفِ بے کراں چشم دارم ہر زماں با ایں و آں آپ کی تو مجھ پر ایسی نگاہِ کرم ہے لیکن میں ہوں کہ آپ کے لطف بے کرا ں سے غافل ہو کر ہمہ وقت ہر کس وناکس پر نگاہ رکھتا ہوں، آپ کے علاوہ دوسروں سے اپنی اُمیدیں وابستہ کرتا ہوں حالاں کہ میری نگاہ تو ہمہ وقت آپ ہی کی طرف لگی رہنی چاہیے تھی ، چشم زدن کو مجھے آپ سے غافل نہ ہونا چاہیے تھا ۔ یک چشم زدن غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگاہے کند آگاہ نباشی ترجمہ: اے سالک! اس شہنشاہ حقیقی تعالیٰ شانہٗ سے ایک لمحے کو بھی غافل نہ ہو شاید کہ وہ تیری طرف نگاہِ کرم فرمائے اور غفلت کی وجہ سے تجھے خبر بھی نہ ہو۔ اور عاشق کا تو یہ حال ہوتا ہے ۔ در بزمِ وصالِ توبہ ہنگام تماشا نظارہ ز جنبیدن مژگاں گلہ دارد عالمِ قرب وحضوری میں جب قلب خاصانِ خدا پر تجلیاتِ خاصۂ الہٰیہ کا انکشاف ہوتا ہے تو پلک جھپکنا بھی گراں معلوم ہوتا ہے بوجہ مُخلِ نظارہ ہونے کے۔ یعنی ایک لمحے کی غفلت بھی باعثِ کلفت ہوتی ہے۔