فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
ہوئی روٹی سے میرے جسم میں خون بنا، اسی خون سے میرے جسم میں قوت آئی ، وہی خون میری آنکھوں میں جا کر قوتِ باصرہ بنا، کانوں میں جا کر قوتِ سامعہ بنا، ناک میں قوتِ شامہ بنا، زبان میں قوتِ ذائقہ بنا لیکن میں آپ کے دیے ہوئے رزق سے پیدا شدہ قوتوں کو اور آپ کی عطا فرمودہ جملہ نعمتوں کو آپ کی نافرمانی میں صَرف کرتا ہوں۔ نعمت تو آپ کی طرف سے ہے لیکن بجائے آپ پر فدا ہونے کے میں آپ کے غیروں سے دل لگاتا ہوں، ان پر متوجہ اور ملتفت ہوں، یہ میرا انتہائی کمینہ پن اور احسان فراموشی اور دناءت ہے۔ جو ایک لقمہ میں حلق سے اُتارتا ہوں اس میں زمین وآسمان، چاند وسورج، ہواؤں اور بادلوں کی خدمات شامل ہیں، ساری کائنات کی خدمت ایک نوالۂ رزق میں لگی ہے تب یہ نوالہ مجھ تک پہنچا ہے لیکن آہ! میں کس غفلت سے اللہ کا رزق کھا کر کس جرأت وبے حیائی سے گناہ کرتا ہوں۔ ابر و باد و مہہ و خورشید و فلک در کار اند تا تو نانے بکف آری و بہ غفلت نہ خوری ہمہ از بہرِ تو سرگشتہ و فرماں بردار شرطِ انصاف نہ باشد کہ تو فرماں نہ بری حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بادل ہوا، چاند سورج، زمین وآسمان اللہ نے تیری خدمت میں لگادیے تاکہ جب تو روٹی ہاتھ میں لے تو غفلت کے ساتھ نہ کھائے بلکہ استحضار رہے کہ میری خاطر پوری کائنات کو میری خدمت میں لگادیا گیا تب مجھے یہ روٹی ملی ہے۔ ساری کائنات میری مطیع وفرماں بردار بنادی گئی بس یہ انصاف کی بات نہیں ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری نہ کرے۔ جملہ بینی و نہ گیری انتقام از درِ حلم وکرم آئی مدام اے اللہ! آپ ہماری سب بے وفائیاں اور کوتاہیاں اور دناءت وکمینہ پن دیکھتے ہیں، مگر