فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
من بخواب و پاسبانِ من توئی من چو طفل و حرزِ جانِ من توئی جب میں سوتا ہوں تو اے اللہ! آپ ہی میری پاسبانی کرتے ہیں اور میں آپ کے سامنے مثل بچہ کے ہوں پس آپ ہی میری جان کی حفاظت کرتے ہیں اور میرے خورد ونوش ولباس وجملہ ضروریات کی کفالت فرماتے ہیں۔ ہندوستان کے بادشاہ عالمگیر نے ایک بزرگ کو خط لکھا کہ میں حیدر آباد دکن فتح کرنے جارہا ہوں ورنہ خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا، پس اگر آپ اپنے بزرگوں کی زیارت کے لیے دِلّی تشریف لائیں تو میں بھی آپ کی قدم بوسی کرلوں گا۔ سبحان اللہ! پہلے بادشاہوں کے قلب میں اہل اللہ کا کیا ادب تھا۔ ان بزرگ نے بادشاہ کو جواب تحریر فرمایا کہ: فقیر را بابزمِ سلطانی چہ کار۔ کریمے دارم چوں گر سنہ می شوم مہمانی می کند، چوں بخسپم پاسبانی می کند۔ کریمے ما بس باقی ہوس ترجمہ: فقیر کو بادشاہوں کی بزم سے کیا کام ۔ میں ایک کریم رکھتا ہوں، جب میں بھوکا ہوتا ہوں تو وہ میری مہمانی کرتا ہے اور جب سوجاتا ہوں تو میری پاسبانی کرتا ہے۔ مجھے میرا اللہ بس ہے ( یعنی کافی ہے ) باقی سب ہوس ہے۔ من بعصیاں صَرف وقتِ خود کنم بینی و از حلم می پوشی برم میں اپنے اوقاتِ زندگی کو گناہوں میں گزار رہا ہوں، جو زندگی آپ کی فرماں برداری کے لیے تھی میں اسے آپ کی نافرمانی میں صَرف کررہا ہوں اور آپ یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن آپ کا حلم وکرم میری پردہ پوشی کرتا ہے اور مجھے رُسوا نہیں کرتا۔ روزیت را خور دہ عصیاں می کنم نعمت از تو من بہ غیرے می تنم آپ کا رزق کھا کر میں آپ ہی کی نافرمانی کرتا ہوں۔ آہ! میں کتنا کمینہ ہوں کہ آپ کی دی