فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
مغفرت ہے بوجہ گناہوں پرندامت کے۔ اے خدا قربان احسانت شوم کانِ احسانی بقربانت روم اے خدا! میں آپ کے احسانات پر قربان ہوجاؤں کہ آپ احسانات کا مخزن و سر چشمہ ہیں پس میری جان آپ پر فدا ہوجائے ۔ معدنِ احسانی و ابرِ کرم فیضِ تو چوں ابر ریزاں بر سرم اے معدنِ احسان و ابرِ کرم! آپ کا خزانۂ احسان اور فیضِ بخشش و عطامیرے سر پر مثل ابر باراں کے رحمت کی بارش کررہا ہے۔ از عدم دادی بہ ہستی ار تقا زاں سپس ایمان و نور اھتدا آپ نے عدم سے ہمیں وجود کی طرف ترقی دی یعنی عدم سے وجود بخشا اور اس کے بعد ایمان اور نورِہدایت بھی عطا فرمایا تاکہ اس زندگی میں اعمالِ صالحہ یعنی امتثالِ اوامر واجتناب عن النواہی کے ذریعے ہماری عبدیت کو عروج وارتقا کی آخری منزل نصیب ہوجائے اور آپ ہماری عبدیت کے سر پر اپنی ولایت ورضا مندی کا تاج رکھ دیں۔ اے خدا احسان ِ تو اندر شمار می نتانم با زبانِ صد ہزار اے خدا! اگر مجھے ایک لاکھ یعنی بے شمار زبانیں عطا ہوجائیں تو بھی میں آپ کے احسانات کو ان زبانوں سے شمار نہیں کرسکتا کیوں کہ آپ کے احسانات بے حد اور بے شمار ہیں اس لیے آپ نے قرآنِ پاک میں فرمادیا کہ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللہِ لَاتُحۡصُوۡہَا؎ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے۔ ------------------------------