فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
نافرمانی میں مبتلا ہوتا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں، لیکن جو آپ کے قُرب سے مشرف ہوا اس کا دوری کے عذاب میں مبتلا ہونا سخت تعجب وحیرت اور عبرت کی بات ہے کہ قُرب کا مزہ چکھنے والا کس طرح تلخیٔ فراق پر صبر کیے ہوئے ہے ۔ گر خفاشے رفت در کور وکبود بازِ سلطاں دیدہ رابارے چہ بود اگر چمگادڑ تاریکیوں میں جا کر غلاظت کو چاٹ رہا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں، لیکن وہ بازِ شاہی جس نے بادشاہ کی نگاہیں دیکھی ہیں اس کو کیا ہوگیا کہ چمگادڑ کی طرح غلاظتوں میں ملوث ہورہا ہے۔ لہٰذا اے اللہ! جس نے آپ کا روئے زیبا دیکھ لیا یعنی آپ کے قُرب سے مشرف ہوگیا اس کو اپنی دوری اور بُعد سے معذب نہ ہونے دیجیے بلکہ اس کے نوخیز سبزۂ معرفت کی آبیاری کیجیے یعنی توفیقِ نالہ و فغاں وگریہ وزاری واشکباری سے اس کی محبت ومعرفت میں ترقی عطا فرمائیے۔ ہیں مراں از روئے خود او ر ا بعید آں کہ او یک بار روئے تو بدید ارشاد فرمایا کہ مولانا رُومی کس عاشقانہ انداز سے اللہ تعالیٰ سے درخواست کررہے ہیں کہ جس شخص نے ایک بار بھی آپ کا جمال دیکھ لیا اس کو کبھی اپنے پاس سے نہ بھگائیے یعنی اپنے کرم سے آپ نے جس کو ایک بار بھی اعمالِ صالحہ، ذکر وفکر اور اپنی یاد اور محبت کی توفیق دے کر اپنا پیارا بنالیا پھر اس کو اپنے قُرب سے محروم نہ فرمائیے یعنی اس کے نفس کے حوالے نہ فرمائیے کہ گناہوں میں مبتلا ہو کر وہ آپ سے دور ہوجائے اور شقاوت وبدبختی اس کو پکڑ لے۔ دید روئے جز تو شد غَلِ گلو کُلُّ شَیْءٍ مَّا خَلَا اللہَ بَاطِلٗ