فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
اے خدا! آپ کے حسن وجمال کے سوا کسی غیر کی طرف رُخ کرنا گلے کا طوق ہے، مصیبت اور غلامی ہے، کیوں کہ آپ کے سوا ہر چیز فانی ، باطل اور لاشے ہے۔ یعنی آپ سے صحیح تعلق اور اطاعت وفرماں برداری غیر فانی سکون واطمینان کا سبب ہے کیوں کہ آپ کی ذات پاک باقی، قدیم اور غیر فانی ہے اور آپ کے سوا کسی اور سے دل لگانا بے سکونی ، اضطراب اور بے چینی کا ذریعہ ہے کیوں کہ آپ کے علاوہ ہر چیز فانی ہے اور جو چیز علی معرضِ فنا وزوال ہو اس سے حاصل ہونے والا سکون بھی فانی اور باعثِ تشویش واضطراب ہوگا۔ اور ماسویٰ ہر وہ چیز ہے جس سے مقصود اللہ نہ ہو اور جو اللہ تعالیٰ تک رسائی کا ذریعہ بھی نہ بن سکتی ہو ۔ اس میں ہر گناہ ونافرمانی اور اللہ سے غافل کرنے والے اسباب داخل ہیں کیوں کہ یہ بالکل غیر اللہ ہے جو نہ مقصودِ حق ہوسکتا ہے نہ ذریعۂ مقصود بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا وہ چیزیں جن کا مقصود اللہ ہے یا جو ذریعہ اور وسیلہ ہیں وصول الی اللہ کا وہ ہر گز غیر اللہ نہیں اس لیے وہ بھی مقصود ہیں جیسے اللہ والوں سے تعلق، ماں باپ بیوی بچوں اعزا واقربا کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ سب مقصود ہیں کیوں کہ یہ ذریعہ ہیں حق تعالیٰ کی رضا کا اوررضائے حق مقصود ہے اور مقصود کا ذریعہ بھی مقصود ہوتا ہے ۔ اسی لیے بزرگوں نے فرمایا کہ جو تعلق لِلْحَقِّ ہوتا ہے وہ بِالْحَقِّ ہوتا ہے یعنی جو تعلق اللہ کے لیے ہے وہ اللہ ہی کا تعلق ہےاس کو غیر اللہ سمجھنا نادانی ہے۔ اسی لیے مولانا رُومی دُعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! کیوں کہ آپ کے سوا ہر چیز فانی ہے اس لیے آپ کے سوا کسی اور کو چاہنا اپنے گلے میں مصیبت کا طوق ڈالنا ہے۔ باطل اند و می نمایندم رشد ز انکہ باطل باطلاں را می کشد ارشاد فرمایا کہ مولانا رُومی بارگاہِ حق میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! میری نگاہ غلط بیں میں باطل اور فانی چیزیں مثلاً دنیائے فانی کی رنگینیاں اور حسینانِ مجازی وغیرہ جو اصلاً آپ کے غیر ہیں اپنی ظاہری کشش اور ملمع سازی سے مجھے رُشد وصواب معلوم ہوتے ہیں حالاں کہ یہ سب غیر حق اور باطل ہیں لیکن چوں کہ میرا نفس باطل اور اَمَّارَۃٌ