Deobandi Books

فغان رومی

ہم نوٹ :

276 - 290
کیا وہ شخص جو ( بوجہ کفر  کے ) مردہ تھا  پس ہم نے اس کو (ایمان عطا فرما کر ) زندہ کردیا۔
معلوم ہوا کہ ایمانی حیات ہی اصلی حیات ہے اور اللہ سے دوری موت ہے، اور یہ اس وقت ہے جبکہ اللہ کے قُرب کا مزہ چکھا ہی نہ ہو، اور جس کو قُربِ الٰہی کی لذت مل گئی پھر کسی شامتِ عمل سے وہ اللہ سے دور ہوگیا  تو نور کے بعد ظلمت کا احساس نہایت شدید ہوتا ہے، جیسے ایک بینا آدمی کی آنکھوں کی روشنی جاتی رہے تو اس کو ظلمت سے سخت بے چینی وپریشانی ہوگی، برعکس نابینا کے کہ اگر اندھیرے پراندھیرے طاری ہوتے رہیں تو نابینا کو کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو لوگ ذاکر ہیں اور اہل اللہ کے تعلق کی برکت سے ہر وقت انوار میں رہتے ہیں ان سے اگر کبھی خطا ہوجاتی ہے تو  گناہ کی ظلمت  کا احساس ان کو نہایت شدید ہوتا ہے اور ان کے دل پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے  ۔
بردلِ سالک ہزاراں  غم  بود
گر   ز   باغِ  دل خلالے  کم   بود
سالک پر غموں کے ہزاروں پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں اگر اس کے دل میں باغِ قرب سے ایک تنکا   بھی کم ہوجائے۔ اسی کو مولانا نے وصال سے تعبیر فرمایا کہ وصل وقُرب کے بعد فراق زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
اس کے برعکس اللہ سے غافل اور نافرمان جو غرق ظلماتِ معاصی ہیں، گناہوں کے مسلسل ارتکاب سے ان کے باطن میں ظلمت پر ظلمت چڑھتی جاتی ہے، لیکن مثل نابینا کے ان کو کوئی احساس نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ اس حالت سے ہر ایک کو بچائے ۔
آں کہ دید  ستت مکن نادیدہ اش
آب    زن     بر     سبزۂ     بالیدہ     اش
جس نے آپ کو دیکھ لیا اس کو ایسا نہ ہونے دیجیے کہ جیسے اس نے کبھی آپ کو دیکھا ہی نہ تھا یعنی جو توفیقِ اعمالِ صالحہ سے آپ کے قُرب سے مشرف ہوگیا اس کو اپنی ناراضگی کے اعمال میں مبتلا نہ ہونے دیجیے، کیوں کہ جس نے آپ کو دیکھا ہی نہیں وہ اگر آپ کی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter