فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
پر مواظبت کی برکت سے اس کی جان نسبتِ خاصہ مع اللہ کے نور سے مشرف ہوگئی۔ رَبِّ اَتْمِمْ نُوْرَنَا بِالسَّاھِرَۃ وَاَنْجِنَا مِنْ مُّفْضِحَاتِ الْقَا ھِرَۃ اے اللہ! ہمارے نور کو روزِ محشر تام فرمادیجیے اور وہاں کی سخت رُسوائیوں سے ہمیں نجات دیجیے۔ یار شب را روزِ مہجوری مدہ جانِ قُربت دیدہ را دوری مدہ مولانا رُومی اللہ تعالیٰ سے التجا کررہے ہیں کہ اے اللہ! آدھی رات کے بعد تہجد ومناجات وگریہ وزاری واشکباری کی توفیق عطا فرما کر جس کو آپ نے اپنا دوست بنالیا اس کو جدائی کا دن نہ دکھائیے اور جس جان نے آپ کے قُرب کا مزہ چکھ لیا اس کو دوری کا عذاب نہ دیجیے یعنی گناہ اور نافرمانی کے ان اعمال سے حفاظت بھی مقدر فرمادیجیے جو آپ سے بُعد اور دوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ بُعدِ تو مرگے ست با درد و نکال خاصہ بُعدے کاں بود بعد از وصال اے اللہ! آپ کا بُعد اور دوری تو خود ایک موت ہے اور یہ موت بھی ایسی ہے کہ جس کے بعد بھی چین نہیں ملتا بلکہ الم وعقوبت ساتھ ہوتا ہے ، خاص کر وہ دوری تو اور زیادہ تلخ اور الم انگیز ہوتی ہے جو لذّتِ قُرب ملنے کے بعد ہو۔ پس زندگی آپ کے تعلق ومحبت کے بعد زندگی کہلانے کی مستحق ہے ورنہ وہ زندگی نہیں موت ہے، جیسا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی: اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ ؎ ------------------------------