فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
السلوک میں تحریر فرماتے ہیں: إِسْنَادُ الْاِخْرَاجِ إلَی لنَّبِیِّ مَعَ کَوْنِ الْمُخْرِجِ الْحَقِیْقِیِّ ھُوَ اللہ فِیْہِ أَقْوٰی دَلِیْلٍ أَنَّ لِلشَّیْخِ مَدْخَلًا عَظِیْمًا فِیْ تَکْمِیْلِ الْمُرِِیْدِ ظلمتوں سے نور کی طرف اخراج کی نسبت نبی کی طرف کرنا باوجودیہ کہ مُخرجِ حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہیں،اس میں نہایت قوی دلیل ہے کہ شیخ کو مُرید کی تکمیلِ اصلاح میں زبردست دخل ہے۔ بس اہل اللہ دروازۂ تزکیہ ہیں، وسیلۂ تزکیہ ہیں، اصل مُزکّی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے: اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ؎ اللہ تعالیٰ ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اور جیسا کہ ایک اور آیت میں فرمایا: وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ مَا زَکٰی مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ۙ وَّ لٰکِنَّ اللہَ یُزَکِّیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ؎ اس آیت کے مخاطبِ اوّل صحابہ ہیں، صحابہ سے خطاب ہورہا ہے کہ اے صحابہ! اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہو تی تو قیامت تک تم میں سے کوئی پاک نہیں ہوسکتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ جس کا چاہتا ہے تزکیہ فرماتا ہے۔ تو جب صحابہ جن کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آفتابِ نبوت کی صحبت حاصل تھی، اُس آفتابِ نبّوت کی صحبت کہ ایسا آفتاب نہ پہلے پیدا ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا، ان کا تزکیہ جب اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت ومشیّت پر موقوف ہے تو پھر کس کا منہ ہے جو اس فضل ورحمت ومشیّت کا محتاج نہ ہو۔ پس اے اللہ! ہم آپ سے اس تیشۂ تزکیہ کی بھیک مانگتے ہیں جو بندوں کی اصلاح کا اصل سبب ہے، لہٰذا آپ اپنا وہ فضل اور وہ رحمت اور وہ مشیت ہمارے شاملِ حال کردیجیے جس پر تزکیہ موقوف ہے۔ ------------------------------