فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
آیت دوسری آیت کی تفسیرکرتی ہے،چناں چہ اس آیت کی تفسیر دوسری آیت میں ہے۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:بَلْ طَبَعَ اللہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ ہم نے ان کافروں کے دلوں پر جو مہر لگائی ہے اس کا سبب ان کا کُفر ہے کہ ان کا ارادہ تا حیات اس طغیان وسرکشی پرقائم رہنے کا ہے، لہٰذا یہ مہر ان کے کُفر وسرکشی کا خمیازہ ہے۔ حکیم الاُمت مجدد الملّت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ کافر مثلاً پچاس سال کفر کرتا ہے اور مومن پچاس سال ایمان پر رہتا ہے، تو عدل کا تقاضا یہ تھا کہ کافر کو پچاس سال دوزخ میں ڈال دیا جاتا اور مومن کو پچاس سال کے لیے جنت دے دی جاتی، لیکن کافر کے لیے خُلُوْدْ فِیْ النَّارِاورمومن کے لیے خُلُوْدْ فِیْ الْجَنَّۃِ کیوں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خُلُوْدْبوجہ ان کی نیت اور ارادہ کے ہے، چوں کہ کافر کا ارادہ یہ ہے کہ اگر قیامت تک زندہ رہوں گا تو کفر پر ہی قائم رہوں گا لہٰذا اس کی اس نیت کی وجہ سے خُلُوْدْ فِیْ النَّارِ ہے اور مومن کی نیت چوں کہ یہ ہے کہ اگر قیامت تک زندہ رہا تو ایمان پر ہی رہوں گا، اللہ ہی کا ہو کر رہوں گا، اس لیے مومن کے لیے خُلُوْدْ فِیْ الْجَنَّۃِ ہے۔ إ إ إ إ