فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ؎ مہر لگادی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عذابِ عظیم ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ جب اللہ نے مہر لگادی تو ایمان نہ لانے میں اہلِ کفر کا معذور ہونا لازم آتا ہے تو اس کا جواب حکیم الاُمت نے ’’بیان القرآن‘‘ میں دیا کہ ان کے مسلسل کُفر وطغیان اور بُغض و عناد اور مخالفتِ حق کے سبب ان کے اندر قبولِ حق کی استعداد ہی ختم ہوگئی،حالاں کہ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے اندر قبولِ حق کی استعداد رکھ کر دنیا میں بھیجا ہے، لیکن آدمی اپنی اغراضِ نفسانی وخود غرضی اور ضد اور سرکشی کے سبب حق کی مخالفت کرتا ہے جس سے وہ استعداد فنا ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جب انہوں نے طے کرلیا کہ ہم تمام عمر کفر پر قائم رہیں گے اور کبھی ایمان نہ لائیں گے، ہمیشہ حق کی مخالفت کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر مہر لگادی کہ جب تم نے قبولِ حق کی اپنی استعداد ہی برباد کرلی تو جاؤ اب کفر ہی پر مرو، تو اس مہر لگانے کا سبب ان کا کفر ہے نہ کہ یہ مہر اُن کے کفر کا سبب ہے، یعنی ان کے مسلسل کفر کے سبب یہ مہر لگادی گئی، یہ نہیں کہ مہر لگانے سے کفر ان کا مقدّر ہوا۔ اور اس کی مثال حضرت حکیم الاُمت نے عجیب دی کہ جیسے کوئی کریم کسی مفلس کاہزار روپے وظیفہ مقرر کردے، لیکن وہ نالائق بجائے قدر کرنے کے ہزار روپے کے نوٹوں کو جلا کر ضایع کردیتا ہے۔ اس کریم نے بارہا اس نامعقول حرکت سے منع بھی کیا لیکن وہ نالائق اپنی حرکت سے باز نہیں آتا، تب وہ کریم اعلان کرتا ہے کہ اس نے مسلسل ہمارے عطیہ کی ناقدری کی، لہٰذا اب ہم اس کا وظیفہ بند کرتے ہیں اور اب کبھی اس کو وظیفہ نہ دیں گے۔ بس یہی ہے خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اورقرآنِ پاک کی ایک ------------------------------