فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
نُوْرًا وَّعَنْ شِمَالِیْ نُوْرًا وَّمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا وَّمِنْ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّفِیْ عَصَبِیْ نُوْرًا وَّلَحْمِیْ نُوْرًا وَّفِیْ دَمِیْ نُوْرًا وَّفِیْ شَعْرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا وَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا ؎ ترجمہ: اے اللہ! عطا فرما میرے دل میں نور اور میری بینائی میں نور اور میری شنوائی میں نور اور میرے داہنی طرف نور اور میرے بائیں طرف نور اور میرے پیچھے نور اور میرے سامنے نور اور عطا فرما میرے لیے ایک خاص نور اور میرے اعصاب میں نور اور میرے گوشت میں نور اور میرے خون میں نور اور میرے بالوں میں نور اور میرے پوست میں نور اور میری زبان میں نور اور کردے میری جان میں نوراور مجھے نورِ عظیم عطا فرما اور کردے میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور ، یا اللہ! مجھے نور عطا فرما۔ زانکہ خاصاں را تو مہر و کردۂ ماہِ جانم را سیہ رو کردۂ مولانا رُومی حق تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ خاص بندوں کی جان کو بہ برکتِ تقویٰ آپ نے ماہ رو کردیا یعنی چاند کی طرح روشن کردیا اور ہماری جان کو بوجہ ہماری شامتِ اعمال سیاہ رو کردیا۔ اب اگر کوئی اعتراض کرے کہ مولانا نے سیاہ رو کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے اس سے بظاہر بے ادبی لازم آتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت نہیں ہے بلکہ نسبت اپنی شامتِ اعمال اور معاصی پر استمرار کی نحوست کی طرف ہے جس پر بطُورِ سزا یہ سوءِ قَضا مسلّط کی گئی،جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ------------------------------