فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
لَیْسَ شَیْ ءٌ أَحَبَّ اِلَی اللہِ مِنْ قَطْرَتَیْنِ وَأَثَرَیْنِ: قَطْرَۃٍ مِنْ دُمُوْعٍ فِیْ خَشْیَۃِ اللہِ وَقَطْرَۃِ دَمٍ تُھْرَاقُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ؎ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں: ایک آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو اور ایک خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستے میں بہا ہو۔ مولانا رُومی فرماتے ہیں ؎ کہ برابر می کند شاہِ مجید اشک را در وزن با خونِ شہید وہ اللہ اپنی محبت اور خوف سے نکلے ہوئے آنسو کو شہیدوں کے خون کے برابر وزن کرتا ہے۔ اور احقر کے اس مضمون پر دو شعر ہیں ۔ قطرۂ اشکِ ندامت درسجود ہمسری خونِ شہادت می نمود ندامت وخشیت سے نکلے ہوئے آنسو اللہ کے نزدیک محبوبیت میں شہیدوں کے خون کے برابر ہیں۔ ہر کجا گرید بہ سجدہ عاشقے آں زمیں باشد حریمِ آں شہے جس زمین پر کوئی اللہ کا عاشق اللہ کی یاد میں روتا ہے وہ زمین اللہ تعالیٰ کا حرم بن جاتی ہے۔ تو مولانا رُومی اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ! اگر ہماری آنکھیں خشک ہوگئیں تو رونے کے لیے آنسو عطا فرمائیے، جس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے موسلادھار برسنے والی بارش کی طرح رونے والی آنکھیں مانگی ہیں : اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ عَیْنَیْنِ ھَطَّالَتَیْنِ تَشْفِیَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدُّمُوْعِ مِنْ خَشْیَتِکَ قَبْلَ اَنْ تَکُوْنَ الدُّمُوْعُ دَمًا وَّ الْاَضْرَاسُ جَمْرًا ؎ ------------------------------