فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
اور اپنی خطاؤں پر ندامت کے آنسو نجات کا ذریعہ ہیں: عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ:لَقِیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ :مَا النَّجَاۃُ، فَقَالَ:اَمْلِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ، وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ، وَابْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ؎ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ نجات کا راستہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھ اور تیرا گھر تیرے لیے وسیع ہوجائے اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو۔ اور ندامت سے رونے والے گناہ گاروں کی آواز اللہ تعالیٰ کو تسبیح پڑھنے والوں کی بلند آوازوں سے زیادہ محبوب ہے: لَاَنِیْنُ الْمُذْنِبِیْنَ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ زَجَلِ الْمُسَبِّحِیْنَ ؎ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ گناہ گاروں کا گریۂ ندامت مجھے تسبیح پڑھنے والوں کی بلند آوازوں سے زیادہ محبوب ہے ؎ اے جلیل اشکِ گناہ گار کے اک قطرے کو ہے فضیلت تری تسبیح کے سو دانوں پر اور تنہائی میں اللہ کے لیے نکلے ہوئے آنسوؤں پر قیامت کے دن سایۂ عرش الٰہی کی بشارت ہے: رَجُلٌ ذَکَرَاللہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ ؎ وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں یعنی آنسو جاری ہوجائیں اس کو قیامت کے دن عرش کا سایہ ملے گا۔ اور اللہ کے نزدیک دو محبوب قطروں میں سے ایک محبوب قطرہ وہ آنسو ہے جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو اور دوسرا وہ قطرۂ خون ہے جو اللہ کے راستے میں گرا ہو: ------------------------------