فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
اے اللہ! مجھے ایسی آنکھیں عطا فرما جو موسلا دھار ابر کی طرح برسنے والی ہوں تَسْقِیَانِ الْقَلْبَ جو آنسوؤں سے دل کو سیراب کردیں قبل اس کے کہ دوزخ میں آنسو خون اور ڈاڑھیں انگارے بن جائیں۔ مناجاتِ مقبول میں جو روایت منقول ہے اس میں تَشْفِیَانِ الْقَلْبَ کے بجائے تَسْقِیَانِ الْقَلْبَ ہے۔ غَیْمٌ ھَاطِلٌ کے معنیٰ موسلا دھار برسنے والا بادل یعنی موسلا دھار بارش، اور ھَطَّالَۃٌ مبالغے کا وزن ہے جو یہاں صفت ہے عَیْنَیْن کی اور عَیْنَیْن عربی قاعدے سے مؤنث ہے اس لیے اس کی صفت ھَطَّالَۃٌ بھی مؤنث استعمال فرمائی گئی۔ سرورِ عالم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہِ حق میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! آپ مجھے ایسی آنکھیں عطا فرمائیے جو ھَاطِلَۃٌ نہیں ھَطَّالَۃٌ ہوں ھَاطِلَۃ میں بھی موسلادھار بارش جیسے گریہ کا مفہوم تھا، لیکن نبوت کی جان عاشق نے اس پر قناعت نہ فرمائی بلکہ ایسی آنکھیں مانگیں جو ھَطَّالَۃٌ ہوں یعنی موسلادھار برسنے والے ابر سے بھی زیادہ رونے والی ہوں ؎ اب میں ہوں تری یاد ہے اور دیدۂ تر ہے اسی کو مولانا رُومی ایک اور شعر میں فرماتے ہیں ؎ اے دریغا اشکِ من دریا بُدے تا نثار دلبر زیبا شدے اے کاش! میرے آنسو دریا ہوجاتے تاکہ میں آنسوؤں کا دریا محبوبِ حقیقی تعالیٰ شانہٗ پر قربان کردیتا ۔ ہر کجا بینی تو خوں برخا کہا پس یقیں می داں کہ آں از چشم ِ ما اے لوگو! خاک پر جہاں کہیں خون پڑا ہوا دیکھنا تو یقین کرلینا کہ وہ میری ہی آنکھوں سے بہا ہوگا۔ آہ ! کیا تمنا ہے کہ روئے زمین کا ہر ذرّہ میرے آنسوؤں سے تر ہوجائے۔