فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
اپنے چہرے کو دیکھ رہا ہو، تو کیا محبوب کو غیرت نہ آئے گی اور ایسے عاشق کو گدھے کی طرح ہانک کر اپنے پاس سے بھگانہ دے گا؟ اور کِبر عُجب سے اشدّ ہے کہ متکّبر خود کو اچھا ہی نہیں سمجھتا دوسروں کو حقیر بھی سمجھتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اس کو گرادیتے ہیں اور مخلوق کی نظر میں بھی ذلیل کردیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: وَمَنْ تَکَبَّرَ وَضَعَہُ اللہُ فَھُوَ فِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ صَغِیْرٌ وَّفِیْ نَفْسِہٖ کَبِیْرٌ حَتّٰی لَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْھِمْ مِّنْ کَلْبٍ اَوْ خِنْزِیْرٍ؎ جو اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اس کو خدا گرادیتا ہے پس وہ لوگوں کی نگاہوں میں چھوٹا اور حقیر ہوتا ہے مگر اپنے دل میں اپنے کو بڑا سمجھتا ہے، یہاں تک کہ لوگوں کے نزدیک وہ کتے اور سور سے بھی زیادہ ذلیل ہوجاتا ہے۔ مولانا کا مقصد اس شعر سے یہ ہے کہ اے اللہ! عجب وکبر کا طوق ہماری گردن میں ہے اور ہم اس سے پاکی اور براءت کا اعلان کیسے کرسکتے ہیں جب کہ اس کی علامات واضح طور پر ہمارے اندر موجود ہیں کہ ہم خود بینی وخود ستائی میں مبتلا ہیں، پس آپ اس طوق کو ہماری گردن سے نکال دیجیے اور اپنی محبت کا طوق ہماری گردن میں ڈال دیجیے تاکہ ہم آپ کے نور میں غرق ہوجائیں، جس کو مولانا فرماتے ہیں۔ نورِ او دریمن و یسر وتحت و فوق بر سر و برگردنم مانندِ طوق آپ کا نور میرے دائیں بائیں اُوپر نیچے ہو اور میرے سر اور گردن میں مانند طوق آجائے، یعنی آپ کے ذکر وطاعت کے نور میں ہم غرق ہوجائیں۔مولانا کا یہ شعر دراصل مقتبس ہے اس حدیثِ پاک سے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا مانگی: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِیْنِیْ ------------------------------