فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
ہے،شنوائی آپ کی شنوائی ہے، وجود آپ کا وجود ہے کہ ازل سے ابد تک ہے۔ آپ قدیم ہیں، غیر فانی ہیں، قادرِ مطلق ہیں، ہم حادث اور فانی ہیں، ضعیف ہیں، لہٰذا ہمارا بولنا کوئی بولنا ہے ، ہمارا سننا کوئی سننا ہے، ہمارا وجود کوئی وجود ہے کہ ابھی ہم بول رہے ہیں، سن رہے ہیں اور ابھی رُوح نکل جائے تو خاموشی ہے، سماعت بند اور بینائی ختم۔ اسی فنا کی وجہ سے مولانا فرمارہے ہیں کہ چوں کہ ہماری گویائی ، ہماری شنوائی اور ہمارا وجود فانی ہے، اس لیے اپنے فانی وجود سے صَرفِ نظر کرکے ہم آپ کی قدرت کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں ہے، آپ سب کچھ ہیں ؎ آپ آپ ہیں آپ سب کچھ ہیں اور اور ہے اور کچھ بھی نہیں ہم بالکل لاشے ہیں، آپ کے تابع ہیں اور انتہائی بے کس ہیں۔ یہاں ایک اشکال ہوتا ہے کہ جب ہم بالکل بے کس ہیں تو جزا اور سزا کیوں ہے، جیسے ایک شخص ایسا ہی ایک مضمون پڑھ کر ایک باغ میں گھس گیا اور انگور کھانے لگا اور جب باغ کا مالک آیا تو اس نے پوچھا کہ میرے درخت کے انگور کیوں کھاتا ہے ؟ اور یہ سیب کیوں کھالیے؟ یہ سب میرے درخت کے ہیں تو اس نے کہا:تم غلط کہتے ہو۔ زمین بھی خدا کی ، آسمان بھی خدا کا ، میں بھی خدا کا اور درخت بھی خدا کے ، انگور بھی خدا کے اور سیب بھی خدا کا، خبردار جو مجھے کھانے سے منع کیا! تو مالکِ باغ نے کہا: اچھی بات ہے! ابھی بتاتا ہوں اور ایک رسّہ لے آیا اور اس سے اس کو خوب باندھ دیا اور ایک ڈنڈے سے اس کی پٹائی شروع کی تو وہ چلّانے لگا کہ کیوں مارتا ہے؟ تو مالکِ باغ نے جواب دیا کہ میں بھی خدا کا، تو بھی خدا کا، رسہ بھی خدا کا اور ڈنڈا بھی خدا کا، خبردار جو چلّایا! تو اس وقت اس نے کہا:’’اختیار است اختیار است‘‘اختیار میں تو بہ کرتا ہوں، میں مجبور نہیں ہوں، مجھے اختیار ہے اختیار ہے اختیار ہے۔ ’’ماہمہ لاشیم‘‘ سے مولانا فرقہ ٔ جبریہ کی تائید نہیں کررہے ہیں، بلکہ اپنی بےکسی اور عاجزی ظاہر کرکے حق تعالیٰ کی رحمت سے درخواست کررہے ہیں۔ دونوں میں فرق ہے۔ اور مندرجہ بالا واقعہ بھی مثنوی کا ہے جس میں فرقۂ جبریہ کا رد ہے ؎