فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
یہ مصدریہ ظرفیہ زمانیہ ہے، لہٰذا ترجمہ ہوا:اَیْ فِیْ وَقْتِ رَحْمَۃِ رَبِّیْ؎ یعنی جب تک تمہارے رب کی رحمت کا سایہ رہے گا تمہارا نفس بھی تم کو برباد نہیں کرسکتا۔ لہٰذا مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ ہماری طلب اور نیکیوں کی توفیق اور نفس پر غلبہ سب آپ ہی کی طرف سے ہے ، ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آپ اوّل بھی ہیں آخر بھی ہیں یعنی ازل سے ابد تک آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو پہلے نہیں تھے پھر آپ کے پیدا کرنے سے موجود ہوئے لہٰذا ہم کیا اور ہماری حقیقت کیا۔ ہم تو گوئی ہم تو بشنو ہم تو باش ما ہمہ لاشیم با چندیں تراش یا اللہ!آپ ہی کہتے ہیں اور آپ ہی سنتے ہیں آپ ہی سب کچھ ہیں یعنی آپ ہی متکلم ہیں، آپ ہی سمیع ہیں اور آپ ہی موجود ہیں اور ہم سب لاشیں ہیں ، آپ نے مٹی کو تراش کر آنکھ ناک کان لگا کے ایک لاشے کو آپ نے شیٔ بنادیا ۔ پہلے ہم لاشے تھے، پھر آپ کی تخلیق سے اب شیٔ ہیں، لیکن ایک دن پھر لاشے ہوجائیں گے یعنی لاش ہوجائیں گے حقیقت میں سب کچھ اختیار آپ کا ہے۔ وجود آپ کا ہی ہے ، ہمارا وجود فانی ہے اور اس قابل بھی نہیں کہ اس کو وجود کہا جائے، جیسے سورج ستاروں سے کہہ سکتا ہے کہ تمہارا وجود ہے مگر مثل عدم کے ہے۔ ہماری ہستیاں حق تعالیٰ کی ہستی کے فیضان سے ہیں ، ہماری ذات خود سے قائم نہیں بلکہ ہم حق تعالیٰ کے کرم سے اور ان کے فیضان صفتِ حَیّ اور فیضان صفتِ قَیُّوْم سے قائم ہیں۔ جس دن صفتِ حیّ اور صفتِ قَیُّوْمْ کے ظہور کو اللہ تعالیٰ ہٹادیں گے اس دن آسمان گر پڑےگا ، سورج اور چاند گر پڑیں گے اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ محدثین نے لکھا ہے کہ اللہ کے ان دوناموں حَیٌّ اورقَیُّوْمٌ سے سارا عالم قائم ہے۔ تو مولانا کا اشارہ یہی ہے کہ ہمارا وجود کوئی حقیقت نہیں رکھتا، ہماری گویائی، بینائی ، شنوائی سب آپ کی مدد سے ہے ورنہ حقیقتاً گویائی آپ کی گویائی ------------------------------