فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
مری طلب بھی ان ہی کے کرم کا صدقہ ہے قدم یہ اُٹھتے نہیں ہیں اُٹھائے جاتے ہیں ہم جو خدا کو ڈھونڈ رہے ہیں یہ ڈھونڈنا اس بات کی علامت ہے کہ اے خدا!ا ٓٓپ ہم کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جو بندہ خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈتا ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ خدائے تعالیٰ اس کو تلاش فرمارہے ہیں، اسے اپنا بنانا چاہتے ہیں ؎ محبت دونوں عالم میں یہی جاکر پکار آئی جسے خود یار نے چاہا اسی کو یاد ِ یار آئی میری طلب بھی آپ کا فیض ہے، آپ کا کرم ہے، دنیا میں جتنی خیریں ہیں سب آپ کی عطا ہیں کیوں کہ نصِ قطعی ہے: مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللہِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ ؎ یعنی تم کو جتنی نیکیاں مل رہی ہیں خواہ حج ہو یا عمرہ ہو یا نماز ہو یا تلاوت ہو یہ سب اللہ کی عطا ہے وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَاور جتنے گناہ اور بُرائیاں کی ہیں یہ تمہارے نفس کی بدمعاشی اور شرارت ہے، کیوں کہ نفس اپنی ذات کے اعتبار سے اَمَّارَہ بِالسُّوْءہے اور الف لام السُّوْءکااسمِ جنس کا ہے یعنی وقتِ نزولِ قرآن سے لے کر گناہ کے جتنے انواع قیامت تک ایجاد ہوں گے سب اس اَلسُّوْءمیں شامل ہیں، کیوں کہ جنس وہ کلّی ہے جو انواع مختلف الحقائق پر مشتمل ہوتی ہے اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ مگر جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا سایہ عطا فرمائیں گے وہ نفس کے شر سے محفوظ ہوجائے گا۔ یہ ہمارا اور آپ کا استثناء نہیں ہے، یہ مخلوق کا استثناء نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا استثناء ہے، اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے سایۂ رحمت میں قبول فرمائے اس کو اس کا نفس بھی خراب نہیں کرسکتا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کےاستثناء کے سامنے نفس کی کیا حیثیت اور کیا حقیقت ہے۔ اور علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ میں جو مَا ہے ------------------------------