فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
ایسی کیمیا ہے کہ ہمارے اخلاقِ رذیلہ کو آپ اخلاقِ حمیدہ میں تبدیل فرماسکتے ہیں، نجاستِ غلیظہ کو خوشبودار پھول بناسکتے ہیں۔ اسی کو اصغر گونڈوی نے فرمایا تھا ؎ جمال اس کا چھپائے گی کیا بہار ِ چمن گلوں سے چھپ نہ سکی جس کی بوئے پیراہن اللہ کے جمال کو بھلا یہ دنیاوی پھول چھپا سکتے ہیں جن کے برگ وپیرہن خود اللہ تعالیٰ کی خوشبو کے غماز ہیں۔ پھولوں میں یہ خوشبو کہاں سے آتی ! یہ اللہ ہی کی تو دی ہوئی ہے۔اور اگر پودے میں کھاد زیادہ ہوجائے تو پودے کے جلنے کا خطرہ ہوتا ہے، کیوں کہ کھاد میں گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس میں پانی زیادہ ڈالنا پڑتا ہے اور پانی بہتا ہوا ہو کہ کھادکی گرمی کو بہا کر لے جائے، وہیں جمع نہ ہو ورنہ جڑ سڑ جائے گی۔ پھر جہاں یہ کھاد والا پانی بہتا ہوا جائے گا وہاں بھی ہریالی آجائے گی اور دوسرے پودے بھی ہرے بھرے ہوجائیں گے اورکھاد کی گرمی سے یہ پودا بھی نہ جلے گا اور ہرا بھرا ہوجائے گا ۔ پس جس کے دل میں شہوت کی کھاد زیادہ ہو وہ ذکر اللہ کے ماحول میں اور اہل اللہ کی صحبتوں کے انوار میں زیادہ رہے، تاکہ اللہ کے نور کا پانی شہوت کی کھاد سے گزرتا رہے اور اس کی حرارت ٹھنڈی ہوتی رہے جس سے ایمان کا درخت بھی ہرا بھرا ہوجائے گا اور جہاں جہاں وہ آبِ نور جائے گا ہریالی ہوجائے گی یعنی دوسروں کو بھی صاحبِ نسبت کرے گا ؎ وہ دل جو تیری خاطر فریاد کررہا ہے اُجڑے ہوئے دلوں کو آباد کررہا ہے ہم طلب از تست و ہم آں نیکوئی ما کئیم اوّل توئی آخر توئی یہ ہم جوا ٓپ کو چاہتے ہیں یہ اصل میں آپ کے چاہنے کا عکس ہے۔ ہم کیا چاہتے آپ کو ، آپ ہی ہمیں چاہتے ہیں ؎ وہی چاہتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں