Deobandi Books

فغان رومی

ہم نوٹ :

216 - 290
کیوں کہ اگر آپ جوانی نہ دیتے اور بچپن ہی میں موت دے دیتے تو ہم قبرستان میں بغیر جوانی دیکھے ہوئے دفن ہوجاتے ۔ تو آپ نے جب ہمیں جوانی عطا فرمائی تو آپ کی اس عطا کا حق یہ ہے کہ ہم اپنی جوانی کو باوفا بنا کر آپ پر فدا کردیں۔
مولانا  فرماتے ہیں کہ اے اللہ! آپ جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے یہاں تک کہ آپ کی مشیت سے ایسی چیزوں کا ظہور ہوجاتا ہے جو عادتاًمحال ہیں، جیسے گلاب کے پھول کی جڑ میں بدبودار کھاد ہوتا ہے جس کے اجزاء تحلیل ہو کر اجزائے  خاکی کے ساتھ مل کر جڑ سے گلاب کے درخت کے اندر داخل ہوجاتے ہیں لیکن اُوپر گلاب کا خوشبودار پھول پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی عطا اور کرم ہے، کھاد کا کمال نہیں ہے۔ اگر کھاد کا کمال ہوتا تو پھولوں میں بدبو ہوتی۔ اللہ تعالیٰ دکھاتے ہیں کہ ہم ایسے قادرِ مطلق ہیں کہ حسّی نجاست سے خوشبودار پھول پیدا کرسکتے ہیں، لہٰذا اپنے نفس کے گندے تقاضوں سے گھبراؤ مت ، بس ان تقاضوں کو دبادو جیسے کھاد کو مٹی کے نیچے دبا دیتے ہیں ، اگر کھاد اُوپر ہوگی تو درخت جل جائے گا۔ اسی طرح تم بھی اپنی بُری بُری خواہشات پر کَفُّ النَّفْسِ عَنِ الْھَوٰی کی مٹی ڈال دو، یعنی ان پر عمل نہ کرو تو اس سے ہم تمہارے دل میں تقویٰ کا گلاب پیدا کردیں گے، اور کھاد جتنی بدبودار ہوتی ہے پھول اتنا ہی خوشبودار پیدا ہوتا ہے، اس لیے کتنے ہی شدید اور خبیث تقاضے ہوں ان سے  مت گھبراؤ، مجاہدۂ شدیدہ کی مٹی میں ان کو دبادو  تو تقویٰ کا پھول اتنا ہی خوشبودار پیدا ہوگا۔ اسی لیے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جو جتنا زیادہ قوی الشہوت ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ قوی النور ہوتا ہے، کیوں کہ شہوت کو  روکنے میں اس کو مجاہدہ شدیدہ ہوتا ہے تو اس کا مشاہدہ بھی اتنا ہی زیادہ قوی ہوتا ہے ، اس کا تقویٰ بھی اتنا ہی عظیم الشان ہوتا ہے ۔ گندے تقاضوں کی بدبودار کھاد سے (بشرطیکہ اس کو دبادو ) تقویٰ کا خوشبودار پھول پیدا کرنا یہ حق تعالیٰ کی قدرتِ قاہرہ کا کمال ہے۔ اسی کو مولانا رُومی فرماتے ہیں       ؎
کیمیا     داری      کہ    تبدیلش      کنی
گرچہ جوئے خوں بود نیلش  کنی
اے اللہ! آپ کی قدرتِ قاہرہ دریائے خون  کو دریائے نیل کرسکتی ہے۔ آپ کے پاس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter