فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
کیوں کہ اگر آپ جوانی نہ دیتے اور بچپن ہی میں موت دے دیتے تو ہم قبرستان میں بغیر جوانی دیکھے ہوئے دفن ہوجاتے ۔ تو آپ نے جب ہمیں جوانی عطا فرمائی تو آپ کی اس عطا کا حق یہ ہے کہ ہم اپنی جوانی کو باوفا بنا کر آپ پر فدا کردیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اے اللہ! آپ جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے یہاں تک کہ آپ کی مشیت سے ایسی چیزوں کا ظہور ہوجاتا ہے جو عادتاًمحال ہیں، جیسے گلاب کے پھول کی جڑ میں بدبودار کھاد ہوتا ہے جس کے اجزاء تحلیل ہو کر اجزائے خاکی کے ساتھ مل کر جڑ سے گلاب کے درخت کے اندر داخل ہوجاتے ہیں لیکن اُوپر گلاب کا خوشبودار پھول پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی عطا اور کرم ہے، کھاد کا کمال نہیں ہے۔ اگر کھاد کا کمال ہوتا تو پھولوں میں بدبو ہوتی۔ اللہ تعالیٰ دکھاتے ہیں کہ ہم ایسے قادرِ مطلق ہیں کہ حسّی نجاست سے خوشبودار پھول پیدا کرسکتے ہیں، لہٰذا اپنے نفس کے گندے تقاضوں سے گھبراؤ مت ، بس ان تقاضوں کو دبادو جیسے کھاد کو مٹی کے نیچے دبا دیتے ہیں ، اگر کھاد اُوپر ہوگی تو درخت جل جائے گا۔ اسی طرح تم بھی اپنی بُری بُری خواہشات پر کَفُّ النَّفْسِ عَنِ الْھَوٰی کی مٹی ڈال دو، یعنی ان پر عمل نہ کرو تو اس سے ہم تمہارے دل میں تقویٰ کا گلاب پیدا کردیں گے، اور کھاد جتنی بدبودار ہوتی ہے پھول اتنا ہی خوشبودار پیدا ہوتا ہے، اس لیے کتنے ہی شدید اور خبیث تقاضے ہوں ان سے مت گھبراؤ، مجاہدۂ شدیدہ کی مٹی میں ان کو دبادو تو تقویٰ کا پھول اتنا ہی خوشبودار پیدا ہوگا۔ اسی لیے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جو جتنا زیادہ قوی الشہوت ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ قوی النور ہوتا ہے، کیوں کہ شہوت کو روکنے میں اس کو مجاہدہ شدیدہ ہوتا ہے تو اس کا مشاہدہ بھی اتنا ہی زیادہ قوی ہوتا ہے ، اس کا تقویٰ بھی اتنا ہی عظیم الشان ہوتا ہے ۔ گندے تقاضوں کی بدبودار کھاد سے (بشرطیکہ اس کو دبادو ) تقویٰ کا خوشبودار پھول پیدا کرنا یہ حق تعالیٰ کی قدرتِ قاہرہ کا کمال ہے۔ اسی کو مولانا رُومی فرماتے ہیں ؎ کیمیا داری کہ تبدیلش کنی گرچہ جوئے خوں بود نیلش کنی اے اللہ! آپ کی قدرتِ قاہرہ دریائے خون کو دریائے نیل کرسکتی ہے۔ آپ کے پاس