فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
دل لگانا بھی چاہوں تو دل ایسا بے چین ہوجائے جیسے مچھلی پانی کے بغیر تڑپنے لگتی ہے ؎ دردِ فرقت سے مرا دل اس قدر بے تاب ہے جیسے تپتی ریت میں اِک ماہی بے تاب ہے یعنی بارہ بجے دوپہر کا وقت ہو، چلچلاتی ہوئی دھوپ سے ریت گرم ہو اور ایک مچھلی کو پانی سے نکال کر اس تپتی ہوئی ریت میں ڈال دو، تو جو اس کی کیفیت ہوتی ہے وہ میری کیفیت ہوجائے کہ گناہوں کے ماحول میں اور غیر اللہ سے دل لگانے کے خیال سے ہی تڑپنا شروع کردوں، اور میرے قلب کو اللہ تعالیٰ کے دریائے قُرب سے اس درجہ اُنس پیدا ہوجائے کہ میں اللہ کو چھوڑ کر کسی غیرکے چکر میں نہ پڑوں۔ پس جو شخص چاہے کہ اللہ کے دین پر قائم رہے اور نفس وشیطان کے کبھی چکر میں نہ آئے تو اس کو اللہ سے محبت مانگنی چاہیے، کیوں کہ مُرتد کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اہلِ محبت پیدا کریں گے جن سے ہم محبت کریں گے اور وہ ہم سے محبت کریں گے۔ ہم یاد کریں گے وہ ہمیں یاد کریں گے میرے دلِ برباد کو آباد کریں گے بربادِ محبت کو نہ برباد کریں گے میرے دل ِ ناشاد کو وہ شاد کریں گے اسی لیے مولانا اللہ تعالیٰ سے مناجات کررہے ہیں کہ اے عقل عطا فرمانے والے اللہ اور ہماری فریاد اور دُعاؤں کو سننے والے! آپ سے فریاد ہے کہ آپ ہمیں چاہ لیں، ہمیں اپنا بنانے کا ارادہ فرمالیں تو پھر ہماری عقل بھی صحیح کام اور صحیح فیصلہ کرے گی۔ پھر ہم اپنی زندگی کا بہترین زمانہ اپنا عالمِ شباب آپ کو پیش کریں گے تاکہ یہ جوانی ٹھکانے لگ جائے، کیوں کہ جو جوانی خدا پر فدا ہوئی وہ اپنے صحیح حق پر پہنچ گئی، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ میں جوانی اس پر فدا کررہا ہوں جس نے مجھے جوانی دی ہے۔ جوانی تو دے اللہ اور فدا کروں اس کو غیروں پر جو خود محتاج ہیں، جو خود اپنے شباب کے مالک نہیں وہ دوسروں کو کیا دے سکتے ہیں؟ اس لیے میں اپنا زمانۂ عیش ونشاط اے خدا!آپ پر فدا کرتا ہوں،