Deobandi Books

فغان رومی

ہم نوٹ :

192 - 290
تم جہاں کہیں بھی ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تمہیں دنیا میں بھیج رہے ہیں لیکن تمہیں تنہا نہیں بھیج رہے ہیں۔ ہم ہر وقت ہر جگہ زماناً ومکاناً تمہارے ساتھ ہوں گے۔ دنیا میں کوئی ابّا ایسا نہیں ہے جو ہر وقت اپنے بچے کے ساتھ رہے، اسکول بھی اس کے ساتھ جائے، اس کے ساتھ کھیل کود میں بھی شامل رہے یا اپنے بیٹے کو تعلیم کے لیے دوسرے شہر یا دوسرے ملک میں بھیجے تو خود بھی اس کے ساتھ جائے، لیکن اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنے بندوں کے ساتھ ہیں ، زمین کے اُوپربھی ساتھ ہیں، زمین کے نیچے قبر میں بھی ساتھ ہیں، برزخ میں بھی ، میدانِ حشر میں بھی اور جنت میں بھی ساتھ ہوں گے ۔ لہٰذا سوائے خدا  کے کوئی ہر وقت ساتھ نہیں رہ سکتا کیوں کہ ان کا کوئی مثل نہیں، ان کی رحمت کے سامنے ابّا کی رحمت کیا چیز ہے، ہمارا ایک ہی ربّا ہے اور لَامِثْلَ لَہٗ ہے، باقی سب مرنے والے ہیں لہٰذا مرنے والے کو چاہیے کہ اس حیّ وقیوّم پر فدا ہوتا کہ وہ زندہ حقیقی  ہم مرنے والوں کو ، حادث وفانی کو سنبھالے رہے۔ زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی جتنے مراحل ہیں اللہ کا ساتھ ہی ہمارا بیڑا پار کرے گا۔ وہ زندگی میں بیڑا پار کرنے والا ہے، خاتمے کے وقت ایمان پر موت دینے والا وہی ہے، قبر کے عذاب سے بچانے والا وہی ہے، عالمِ برزخ میں بھی ساتھ دینے والا وہی ہے، میدانِ محشر میں بخشنے والا بھی وہی ہے اور جنت  میں  اپنا دیدار  کرانے والا بھی وہی ہے کہ  اس کے دیدار کے وقت جنتی جنت کو اور جنت کی نعمتوں کو بھول جائیں گے ۔ ہمارے مالک  نے کہاں ہمارا ساتھ چھوڑا ہے، کوئی مرحلہ اور کوئی مقام ایسا نہیں ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے کہا ہو کہ یہاں ہم تمہارے ساتھ نہیں رہیں گے، لہٰذا محبت کے قابل صرف ہمارا مولیٰ ہے ۔  پھر ایسے مولیٰ کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو۔
لہٰذا مولانا  رومی فرماتے ہیں کہ اے اللہ! ہمارے سینے تو اس قابل نہیں ہیں لیکن ہماری نظر اپنے سینوں پر نہیں ہے، آپ  کے کرم ، آپ کی رحمت اور آپ کی عطا پر ہے، بدونِ استحقاق ، بدونِ  صلاحیت محض اپنے کرم سے  ہمیں صفِّ اولیائے  صدّیقین میں شامل فرمالیجیے،تاکہ زندگی  میں بھی ہمیں آپ کی معیّتِ خاصہ حاصل ہو اور گناہ کرکے ہم کبھی آپ سے دور نہ ہوں، اور مرنے کے بعد بھی آپ کے کرم سے مشرف ہوں جو آپ کے اولیاء کا نصیبہ ہے۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter