فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕاِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا؎ جب آسمان اور زمین پر ہم نے بارِ شریعت کو پیش کیا تو بوجہ ضعف وعجز اور خوفِ عدمِ تحمل سے اس کو اُٹھانے سے انکار کیا یعنی مارے ڈر کے پناہ مانگی کہ اے اللہ! ہم شریعت کا بار نہیں اُٹھاسکتے، کیوں کہ نیکی اور بدی دونوں کے اختیار سے یہ خطرہ ہے کہ نیکی کے اختیار کو ہم استعمال نہ کریں اور بدی کے اختیار کو استعمال کرکے زیرِ عتاب آجائیں، تو یہ دنیا پھر ہمارے لیے کمیں گاہ اور جائے انتقام ہوجائے گی، لیکن حضرت انسان نے اس بار کو اُٹھالیا اور یہ بار اُٹھانا بوجہ اس فطرت محبت کے تھا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے خمیر میں اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡفرما کر ودیعت فرمادیا تھا۔ میرا شعر ہے ؎ ارض و سما سے غم جو اُٹھایا نہ جاسکا وہ غم تمہارا دل ہے ہمارا لیے ہوئے اور خواجہ صاحب فرماتے ہیں ؎ کہیں کون ومکاں میں جو نہ رکھی جا سکی اے دل غضب دیکھا وہ چنگاری مری مٹی میں شامل کی زمین وآسمان جو بارِ شریعت اُٹھانے سے ڈر گئے اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں عشق نہ تھا اور انسان میں چوں کہ مادّۂ عشق پنہاں تھا اس لیے اس نے یہ بوجھ اُٹھالیا، کیوں کہ جو عاشق ہوتا ہے اس کو تو محبوب کا اشارہ چاہیے کہ محبوب کیا چاہتا ہے ، اس لیے اپنی طاقت سے زیادہ بار اُٹھالیتا ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے کہ ایک آدمی غلافِ کعبہ پکڑ کر کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! آپ کا بارِ امانت اُٹھانے پر بطور دشنامِ محبت کے آپ نے میرا لقب ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا رکھا ہے کہ انسان بڑا ظالم اور جاہل تھا، تو اے اللہ! میرے پاس ظلم اور جہل ------------------------------