فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
مبتلا ہیں یہ انتہائی دناءت وپستی اور بے حیائی کا شکار ہیں۔ فرماتے ہیں ؎ ارے یہ کیا ظلم کررہا ہے کہ مرنے والوں پہ مررہا ہے جو دم حسینوں کا بھر رہا ہے بلند ذوقِ نظر نہیں ہے لوگ کہتے ہیں کہ بے پردگی وفحاشی کے سبب حسینوں نے ناک میں دم کررکھا ہے۔ میں کہتاہوں کہ تم ان کی دُم میں ناک کیوں لگاتے ہو؟ اگر تقویٰ سے رہو، نظر کی حفاظت کرو تو لاکھوں حسین شہر میں پھر رہے ہوں تو پھرا کریں کبھی تمہارے ناک میں دم نہیں ہوگا۔ بلکہ حسینوں سے نظر بچانے میں جتنا مجاہدہ شدید ہوگا اتنا ہی مشاہدہ بھی تو قوی ہوگا۔ اس کے بال بال اور رُواں رُواں میں حلاوتِ ایمانی کے دریا کے دریا رواں ہوجائیں گے کیوں کہ نظر کی حفاظت پر حلاوتِ ایمانی موعود ہے۔ اس لیے مرنے والوں کو چاہیے کہ نہ مرنے والے پر مریں ، اور نہ مرنے والا صرف اللہ ہے، جو زندہ حقیقی ہے ، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور اگر مرنے والا مرنے والے پر مرا تو مردہ مثبت مردہ ، میزان میں ڈبل مردہ ہوجائے گا اور جیتے جی مرجائے گا کیوں کہ ان مرنے والوں سے جدائی لازمی ہے، وصلِ دوام ناممکن ہے، اس لیے ان سے دل لگانے کا انجام جنون اور پاگل پن ہے، کیوں کہ وہ فانی محبوب اگر نہ ملا تو اس کے فراق میں پاگل ہوگا یا اگر مرگیا تو موت کے غم میں پاگل ہوجائے گا۔ مجنوں جو پاگل ہوا لیلیٰ کی جدائی سے پاگل ہوا۔ اللہ کے عاشق اس لیے پاگل نہیں ہوتے کہ مولیٰ سے کبھی جدائی نہیں ہے اور یہ طاقتِ خدائی مخلوق کے پاس نہیں ہے کہ ہر وقت ساتھ رہے۔ اللہ تعالیٰ سے کبھی جدائی نہیں ہوتی لہٰذا اللہ تعالیٰ کے عاشقین غمِ فراق میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اپنے گناہوں سے ہم خود اللہ سے دور ہو کر غمِ فراق میں مبتلا ہوجاتے ہیں، نافرمانی سے اللہ سے دوری ہوتی ہے، لیکن استغفار وتوبہ سے پھر وہ اپنے مولیٰ کو حاصل کرلیتے ہیں، ان کی دوری حضوری میں تبدیل ہوجاتی ہے جیسے دریا خشک ہوجائے اور پھر پانی آجائے، اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَ ہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ ؕ؎ ------------------------------