فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
تقاضوں کے باوجود یہ گناہ نہ کرتا ۔ جس کو ہر وقت یہ استحضار ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں وہ کیسے گناہ کرسکتا ہے؟ وہ گناہوں کو اوڑھنا بچھونا نہیں بناسکتا، اس کو چین نہیں آئے گا جب تک توبہ وگریہ وزاری سے اللہ کو راضی نہ کرلے۔ لیکن اے ہمارے رب! ہمارا کیا حال ہے کہ گناہ کرکے ہم ڈکار بھی نہیں لیتے اور ہمارے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی کہ ہم کتنے بڑے مالک کو ناراض کررہے ہیں۔ ہمارا ایمان ایسا ہے جیسا ککروندے کا درخت کہ ایک جھٹکا مارو اور جڑ سمیت اُکھاڑ لو۔ ذرا سی کوئی حسین شکل سامنے آئی اور گناہ کا ذرا سا تقاضا ہوا اور ہم اپنا ایمان فروخت کردیتے ہیں، اللہ کو چھوڑ کر ان مرنے والوں پر مرنے لگتے ہیں حالاں کہ مرنے والے کو چاہیے کہ مرنے والے پرنہ مرے ، اس ذات پر مرے جو حیّ وقیّوم ہے ، ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اور اپنی خستہ حالی اور بے حیائی پر ہمیں شرم بھی نہیں آتی۔ ایک کتے کو شرم آگئی تھی۔ حضرت حکیم الاُمت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں ہے کہ ایک کالا کتا ایک بزرگ کی مجلس کے پاس بیٹھا رہتا تھا، کچھ دن کے لیے غائب ہوگیا تو شیخ نے کہا کہ بھئی! آج کل وہ کلوا کتا نہیں آرہا ہے،مُریدوں کا بھی عجیب مزاج ہوتا ہے کہ اپنے شیخ کو خوش کرنے کے لیے بے قرار ومجنوں ہوجاتے ہیں۔ وہ سب تلاش میں لگ گئے۔ معلوم ہوا کہ آج کل وہ کسی کتیا کے پیچھے پھر رہا ہے ۔ مُریدین اس کو پکڑ کر لے آئے اور شیخ کو بتایا کہ آج کل یہ ایک کتیا کے چکر میں ہے ۔ شیخ نے کہا کہ نالائق! تو ہماری مجلس میں بھی آتا ہے، رات دن اللہ کا تذکرہ سنتا ہے، تجھے شرم نہیں آئی کہ ایک کتیا کے چکر میں آکرتو نے میری مجلس چھوڑ دی۔ بس وہ کتا فوراً اُٹھا اور ایک نالی میں منہ ڈال کر مرگیا۔ اہل اللہ کی صحبت کا اثر جانوروں پر بھی پڑتا ہے۔ حکیم الاُمت فرماتے ہیں کہ آہ! ایک کتے کو شرم آگئی، مگر آج ہم انسانوں کو حیا نہیں کہ کس بےشرمی اور ڈھٹائی سے اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نعمتِ حیا عطا فرمائے، کیوں کہ حیا کی وجہ سے انسان بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے ۔ ہر گناہ کے لیے بے حیائی لازم ہے، اسی لیے خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ جو لوگ اجسام پرستی، حسن پرستی ، غیر اللہ پرستی میں