فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
اے اللہ! آپ کے خاص بندوں کی وہ صف جو اولیائے صدیقین کی ہے اندازے سے اور تعداد سے باہر ہے۔ یعنی لاتعداد گروہِ اولیاء اللہ آپ نے پیدا فرمائے ہیں جو نورِ صدق وصفا میں غرق ہیں، ہمیں بھی اسی نور میں غرق کردیجیے یعنی ان اولیائے صدیقین میں ہم کو بھی شامل کردیجیے۔مراد یہ ہے کہ ہمیں بھی کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ؎ کا شرف عطا فرمائیے کیوں کہ صادقین ہی متقین ہیں اور متقین ہی اولیاء اللہ ہیں،لقولہ تعالٰی، اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ؎ مفسرین اور ہمارے اکابر کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ کا ترجمہ کُوۡنُوۡا مَعَ الْمُتَّقِیْنَ کیوں کرتے ہیں؟اس لیے کہ قرآنِ پاک کی ایک آیت کی تفسیر دوسری آیت کرتی ہے: اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ؎ معلوم ہوا کہ صادقُون اور متّقون کلیان متساویان ہیں،ہر صادق متقی اور ہر متقی صادق ہے،دونوں میں نسبتِ تساوی ہے۔ پس اے اللہ!اولیائے صدیقین کا گروہ لاتعداد بےاندازہ اور ان گنت آپ نے پیدا فرمایا ہے ان کے نورِ صدق وتقویٰ میں ہم کو بھی غرق کردیجیے اور ہم کو بھی اہلِ صدق وصفا بنادیجیے یعنی جو صدق وصفا میں آپ کے ساتھ باوفا ہیں ان اولیاء کی صف میں ہم کو بھی شامل فرمادیجیے۔ اور اہلِ صدق اس کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عہد وپیمان میں صادق الوعد اور صادق العہد ہو، یہاں تک کہ جان دے دے مگر اللہ کو ناراض نہ کرے، اور جو اللہ کی راہ میں جان دینے سے گریز کرتا ہے ، گناہ کی لذت کو چھوڑنے کا غم نہیں اُٹھاتا ، اپنے کو مجاہدے کے غم سے بچانے کے لیے گناہ کرتا ہے کہ جہاں تقاضا ہوا نفس کی بات مان لی تو یہ شخص صادق نہیں ہے، اللہ کے ساتھ باوفا نہیں ہے بلکہ عملاً منافق ہے، یعنی منافقوں جیسے کام کرتا ہے اگر چہ مومن ہے، لیکن اس کے ایمان کا چراغ انتہائی ضعیف اور ٹمٹماتا ہوا ہے کہ گویا صرف زبان پر ایمان ہے۔ اگر قلب میں ایمان کامل ہوتا تو لاکھوں ------------------------------