فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
کچھ ہونا مرا ذلت وخواری کا سبب ہے یہ ہے مرا اعزاز کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں پس اے خدا! جب ہمیں آپ کا راستہ نہیں مل رہا ہے تو آپ ہمیں اپنی راہ کی ہدایت عطا فرمادیجیے تاکہ ہماری سرگشتگی وحیرانی دور ہوجائے، اور ہمارے پاس کمان تو ہے مگر تیر نہیں ہے، کمان خالی پڑی ہے اس لیے آپ اپنی رحمت سے تیر بھی عطا فرمائیے۔ یعنی ہمارے پاس اعمالِ صالحہ کی صلاحیت تو ہے مگر ہم اعمال نہیں کرتے ، سست پڑے ہوئے ہیں ، دشمن ہم پر مسلّط ہوگیا ہے اور وہ ہمارا شکار کررہا ہے ، بجائے اس کے ہم نفس وشیطان پرتیر چلاتے نفس وشیطان ہم پر تیر چلارہے ہیں، لہٰذا ہماری کمان صلاحیت کو اپنی توفیق وہدایت کا تیر عطا فرمادیجیے تاکہ ہم نفس وشیطان کو مغلوب کردیں۔ اے مبدل کردہ خاکے را بہ زر خاکِ دیگر را نمودہ بوالبشر ارشاد فرمایا کہ خاکے میں یائے تنکیری ہے یعنی بعض مٹی۔مولانا رُومی اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! بعض مٹی کو آپ اپنی قدرتِ خلّاقیت سے سونا بنادیتے ہیں اور کسی مٹی کو آپ انسان بنادیتے ہیں۔ یعنی مٹی سے آپ نے غلّہ پیدا کیا اور غلّے سے ماں باپ نے کھایا، روٹی سے خون بنا اور وہی خون باپ کے اندر منی اور ماں کے اندر حیض بن گیا اور اس منی اور حیض کو ماں کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ انسان بنادیتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اے اللہ! یہ آپ کی خلّاقیت کا کمال ہے کہ جس مٹی کو چاہتے ہیں آپ سونا بنادیتے ہیں اور جس مٹی کو چاہتے ہیں انسان بنادیتے ہیں۔ کارِ تو تبدیل اعیان و عطا کارِ ما سہوست و نسیان و خطا ارشاد فرمایا کہ اعیان جمع ہے عین کی اور عین کے معنیٰ ہیں حقیقت، ماہیت۔ تبدیلِ اعیان کہتے ہیں ماہیت کا بدل جانا جیسا کہ مندرجہ بالا شعر میں مذکور ہوا کہ کسی خاک کو اللہ تعالیٰ سونے میں تبدیل فرمادیتے ہیں اور کسی خاک کو انسانی پیکر میں تبدیل