Deobandi Books

فغان رومی

§ہم نوٹ :

152 - 290
فرمادیتے ہیں ، تو خاک کی عینیت اور ماہیت تبدیل ہوگئی۔ اسی طرح شراب حرام ہے لیکن جب شراب سرکہ بن گئی تو اس کی حقیقت بدل گئی، جو حرام تھی اب سرکہ بن کر حلال ہوگئی۔ اب اس سرکہ کو مفتی اعظم بھی پی سکتا ہے، شیخ الحدیث بھی پی سکتا ہے ، شیخ المشایخ بھی پی سکتا ہے۔ اسی طرح گدھا حرام ہے لیکن نمک کی کان میں گر کر مرگیا اور ’’ہر کہ درکانِ نمک رفت نمک شد‘‘ نمک کی کان میں جو چیز بھی جاتی ہے نمک بن جاتی ہے تو وہ گدھا بھی مرنے کے بعد نمک بن گیا، اب اس کی ماہیت تبدیل  ہوگئی اور نمک کے پیکٹوں میں اس کی پیکنگ ہوگئی، لہٰذا اب بڑے  بڑے مفتیانِ کرام اور علمائے  کرام سے لے کر عوام تک اسے کھارہے ہیں۔ لیکن اگر گدھا نہ مرتا اور سانس  لیتا رہتا تو گدھے کا گدھا  ہی  رہتا، کبھی نمک نہ بنتا۔
اس مثال سے مولانا رُومی ایک نصیحت فرماتے ہیں کہ اگر اللہ والا بننا چاہتے ہو تو خانقاہوں میں جا کر اللہ والوں کی صحبت میں اپنے نفس کو مٹاؤ ، شیخ کی رائے میں اپنی رائے کو فنا کردو تب جا کر تم اللہ والے بنو گے، لیکن اگر اپنا تشخّص  باقی رکھو گے اور شیخ کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے باقی رکھو گے تو ایسا شخص گدھے کا گدھا ہی رہے گا اور خرآمد وخر برفت کا مصداق ہوگا کہ جب آیا تو گدھا تھا اور واپس گیا تو گدھا ہی گیا۔ یعنی محروم آیا اور محروم ہی گیا۔
یہ راستہ نفس کو مٹانے  کا ہے۔ اپنے جذبات وخواہشات کو فنا کردو، باہ ہو یا جاہ، غصہ ہو یا شہوت شیخ جو ہدایات دے اس میں اگر مگر مت لگاؤ ، اس کی رائے کو بلا دلیل تسلیم کرکے عمل کرو، پھر دیکھو کیسی تبدیلِ ماہیت ہوتی ہے ، فسق وفجور ولایت وتقویٰ سے تبدیل ہوجائے گا اور بزبانِ حال کہو گے کہ     ؎
تو  نے مجھ کو  کیا سے کیا  شوقِ  فراواں   کردیا
پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں کردیا
مولانا رُومی کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! آپ کا کام حقیقت کو تبدیل کرنا اور تبدیل کرکے اس پر ا پنی بخشش وعطا فرمانا ہے۔ یعنی اشیاء کی ادنیٰ ماہیت اور ادنیٰ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter