فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
نہ کرے۔ مثلاً: ایک شخص گناہ کرکے پورا دریا اپنے اُوپر اُنڈیل لے تو گناہ کی نجاست سے اس کا باطن پاک نہیں ہوگا، لیکن ندامتِ قلب کے ساتھ دو آنسو انسان کو پاک کردیتے ہیں۔اسی لیے فرماتے ہیں کہ پانی سے ظاہری حوادث وانجاس کو دھو لینا کمال نہیں کہ یہ تو ہمارے اختیار میں ہے، لیکن گناہوں کی نجاست سے ہم پاک نہیں ہوسکتے جب تک اللہ تعالیٰ توفیقِ توبہ نہ عطا فرمائیں ۔ لہٰذا اے اللہ! توفیقِ توبہ عطا فرما کر گناہوں کی نجاست سے آپ اپنے اس دوست یعنی بندے کو پاک فرمادیجیے۔ لفظِ دوست کا استعمال بظاہر تو بہت بڑا دعویٰ معلوم ہوتا ہے لیکن اس موقع پر مولانا نے ولایتِ عامہ سے فائدہ اُٹھایا ہے جو ہر گناہ گار سے گناہ گار مومن کو بھی حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؎ اللہ ہرمومن کا ولی ہے۔ لیکن یہ ولایتِ عامہ ہے، ولایتِ خاصہ تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے۔ جب ایمان تقویٰ سے متّصل اور مشرّف ہوجاتا ہے اس وقت ولایتِ خاصہ حاصل ہوتی ہے اور وہ بندہ اللہ تعالیٰ کا ولی کامل ہوجاتا ہے۔ تو یہاں لفظِ دوست مقابلے میں دشمن کے ہے یعنی ہم کافر نہیں ہیں، ہم آپ پر ایمان لائے ہیں لیکن اپنی نالائقی کی وجہ سے نفس وشیطان سے مغلوب ہوجاتے ہیں۔ اس مغلوبیت کی وجہ سے ہم سے گناہ ہوجاتے ہیں ، بغاوت کی وجہ سے نہیں، اس لیے اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے ایک فرد ہم بھی ہیں جس کو آپ نے ہمارے لیے تعبیر فرمایا۔ پس ولایتِ عامہ کے درجے میں ہم آپ کے دوست ہیں۔ لہٰذا آپ ہمارے باطن سے گناہوں کی نجاست کو دھودیجیے تاکہ وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ میں شامل ہو کر ہم آپ کی ولایتِ خاصہ سے مشرف ہوجائیں۔ جز تو پیشِ کہ بر آرد بندہ دست ہم دعا و ہم اجابت از تو است ------------------------------