فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
دناءت اور کمینے پن کے مخالف اور منفی راستے پر ڈال دیجیے، گناہ کی نفی والے راستے پر یعنی اطاعت وفرماں برداری کے راستے پر ڈال دیجیے، توفیقِ ترکِ معصیت دے دیجیے ؎ از حدث شستم خدایا پوست را از حوادث تو بشو ایں دوست را مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ میں نے ظاہری وحسّی نجاستوں سے یعنی حدثِ حسّی اور حدثِ معنوی سے اپنے جسم کو پاک کرلیا۔ حدثِ حسّی کے معنیٰ ہیں محسوسات انجاسِ مرئیہ یعنی وہ تمام نجاستیں جو نظر آتی ہیں، محسوس ہوتی ہیں، حواسِ خمسہ سے جن کا ادراک ہوجائے جیسے پیشاب پاخانہ وغیرہ اورحدثِ معنوی یعنی نجاستِ معنویہ کیا ہے ؟جیسے بیوی سے صحبت کرلی، بظاہر جسم پر نجاست لگی ہوئی نظر نہیں آتی لیکن اللہ کے حکم کی وجہ سے پورا جسم ناپاک ہوگیا اور غسل فرض ہوگیا اور چوں کہ پورا جسم اور تمہارا بال بال اس لذت میں مستغرق ہوگیا تھا لہٰذا بال بال دھونا پڑے گا کہ اگر ایک بال کے برابر بھی خشک رہ گیا تو تمہارا غسل نہیں ہوگا اور لذت میں ڈوب کر چوں کہ تم ایک طرح سے حالتِ غیبت واستتار میں ہوگئے تھے جو مشابہ ہے دوری کے لہٰذا حضوری میں آنے کے لیے سر سے پیر تک نہا کر آنا پڑے گا ورنہ ابھی تم اس قابل نہیں کہ نماز میں ہم سے مناجات وسرگوشی کرسکو یا ہمارا کلام پڑھ کر سنا سکو۔ مولانا رُومی اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! حدثِ حسّی اور حدثِ معنوی یعنی تمام ظاہری نجاستوں سے میں نے اپنے جسم کو پاک کرلیا، لیکن حوادثِ معصیت میں مبتلا ہوں لہٰذا اپنے کرم سے ان حوادث سے بھی میری حفاظت فرمائیے۔ اور حوادث سے یہاں مراد تصادم یا ایکسیڈنٹ اور حادثات وغیرہ نہیں ہے بلکہ یہ حدث سے ہے اور پہلے مصرع میں حدث سے مراد ظاہری حدث ہے اور یہاں باطنی حدث مراد ہے یعنی نافرمانی ، گناہ اور فسق وفجور کی نجاست جو ظاہری نجاست سے کہیں زیادہ اشدّ ہے، کیوں کہ ظاہری نجاست تو دو بالٹی پانی سے دھل جائے گی لیکن گناہوں کی باطنی نجاست پر اگر سمندر کا سمندر ڈال دو تو کوئی پاک نہیں ہوسکتا جب تک توبہ واستغفار