فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
اے اللہ! آپ کے سوا کس کے سامنے بندہ ہاتھ پھیلائے ۔ دُعا کی توفیق بھی آپ ہی نے دی ہے یعنی ہم دُعا بھی آپ ہی کی توفیق سے مانگتے ہیں اور قبولیت بھی آپ ہی کی طرف سے ہوگی۔ یعنی قبولیت بھی آپ ہی کی عطا ہے۔ ہم ز اوّل تو دہی میلِ دعا تو دہی آخر دعا ہا را جزا اوّلاً آپ ہی ہمارے قلب میں دُعا کا رُجحان پیدا فرماتے ہیں یعنی توفیقِ دُعا آپ ہی عطا فرماتے ہیں اور پھر آپ ہی اس دُعا کو قبول بھی فرمالیتے ہیں۔ اوّل و آخر توئی ما در میاں ہیچ ہیچے کہ نیاید در بیاں آپ اوّل بھی ہیں اور آپ آخر بھی ہیں اور ہم درمیان میں اتنے حقیر ہیں، اتنے حقیر ہیں کہ ہماری ذلت وحقارت بیان میں نہیں آسکتی۔ یعنی اوّل وآخر سب آپ ہی کا کرم ہے اور درمیان میں ہم اس قدر حقیر و ذلیل ہیں کہ جس کو ہم بیان نہیں کرسکتے ، نہ ہمارا کوئی عمل آپ کے قابل ، نہ ہماری خطائیں قابلِ معافی لیکن چوں کہ اوّلاً وآخراً ہم آپ کے کرم کے درمیان ہیں اس لیے ہماری ذلتیں اور حقارتیں آپ کے کرم کا آسرا لگائے ہوئے ہیں ؎ کام بنتا ہے فضل سے اخترؔ فضل کا آسرا لگائے ہیں اے خدائے بے نظیر ایثار کن گوش را چوں حلقہ دادی ایں سخن اے خدا! تو بے مثل ہے، مجھ پر اپنا فضل فرمادے ۔ جب آپ نے ہمارے کانوں کو اپنے الطافِ سخن اور گفتگو کا شرف عطا فرمایا یعنی کلام اللہ سننے کی ہم کو صلاحیت عطا فرمائی اور ہمارے کانوں کے حلقے کو آپ نے گفتگو سننے کی صلاحیت بخشی یعنی کانوں کے حلقے میں آپ نے ایسے آلات بچھادیے ہیں جس سے ہم ہر طرح کی آواز سنتے ہیں اور