Deobandi Books

فغان رومی

§ہم نوٹ :

141 - 290
اے اللہ!آپ کے کرم سے نالائق جانیں لائق ہوجاتی ہیں، آپ کا دستِ کرم سارے عالم کی جانوں کے اندر پہنچا ہوا ہے، سارے عالم کی جانیں آپ کے کرم کی دسترس میں ہیں۔ اب بتلائیے ایسے شعر کے بعد کون پڑھا سکتا ہے! بس دل بھر آیا، رُوح پر وجد طاری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری نالائق جانوں کو لائق بنادے  اپنے فضل سے۔
لیکن یاد رکھو کہ اللہ کے فضل کا دروازہ اللہ والے ہیں جیسے بڑے پیر صاحب کے اس واقعے سے بھی ظاہر ہے کہ ان کو عیسائی راہب کے پاس بھیجا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ذریعہ بنایا اپنے فضل کا ۔ حضرت مجدّد الف  ثانی نے لکھا ہے کہ جو کسی صاحبِ نسبت کی خدمت میں جائے اور اس کے سر پرگناہوں کے پہاڑ ہوں تو اس اللہ والے کی نسبت اور تعلق مع اللہ کا نور گناہ کے پہاڑوں کو اُڑا دے گا، سارے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ لیکن عام لوگ صحبت کو سمجھتے ہی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے ۔ نبی کی صحبت ہی سے صحابی بنے ۔ اگر صحابہ لاکھ تبلیغ کے چلّے لگاتے، لاکھ مدرسوں میں پڑھتے لیکن اگر صحبتِ رسول نہ پاتے تو صحابی نہیں ہوسکتے تھے۔ یہ صحبت عجیب چیز ہے کہ عبد اللہ ابنِ اُمّ مکتوم کے آنکھیں نہیں تھیں لیکن نبی نے دیکھ لیا تو وہ صحابی ہوگئے۔ خود  صحابی کا دیکھنا ضروری نہیں ہے، نبی نے جس کو حالتِ ایمان میں دیکھ لیا تو وہ نابینا اُمتی بھی صحابی ہوگیا۔یہ قیمت ہے نظر کی۔ امام ابو حنیفہ اور امام بخاری جیسی عظیم شخصیتیں جو نظرِ نبوّت کو نہیں پاسکیں اس لیے صحابی نہیں ہیں اور ایک ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کے برابر بھی نہیں ہیں۔ اب بتلاؤ  نظر کے لیے اور کیا دلیل چاہیے؟ اور ایک اُونٹ چرانے والا دیہاتی جو ایک حرف نہیں جانتا ایک  نظر نبوت کی پاگیا، صحابی ہوگیا، اب اس کو کوئی نہیں پاسکتا نہ امام بخاری نہ امام ابو حنیفہ۔ ایک شخص نے اس کی بہت عمدہ مثال دی کہ جیسے دس ہزار ملین پاور کا بلب کوئی دیکھ لے تو اس کی رگ رگ میں روشنی گھس جائے گی اور  اس کے بعد ساری دنیا کے بلب جو اس درجے کے نہیں ہیں ان کو کتنا ہی دیکھے ان سے وہ روشنی نہیں  مل سکتی جو دس ہزار ملین پاور کے بلب میں تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم  کا نورِ نبوت بے مثال تھا، نہ پہلے کوئی آپ جیسا پیدا ہوا نہ آیندہ ہوگا اس لیے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھ لیا ان کے ذرّہ ذرّہ میں وہ نور داخل ہوگیا لہٰذا اب قیامت تک کسی بڑے سے بڑے ولی کا ایمان ویقین کسی ادنیٰ صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter