فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
نے اپنے ارادوں کی شکست سے اپنے رب کو پہچانا۔ کرد گارا منگر اندر فعل ما دستِ ما گیر اے شہ ہردو سرا اے پروردگار! اے میرے پالنے والے! میرے فعل پر نظر نہ ڈالیے، میں ایک نالائق انسان ہوں، آپ کا ایک نالائق بندہ ہوں، اے دونوں جہاں کے بادشاہ اور دونوں جہاں کے مالک! میرا ہاتھ پکڑ لیجیے یعنی میری مدد کیجیے، میری دستگیری فرمائیے۔ دستگیری کے معنیٰ مدد کرنے کے ہیں، میری کشتی پار کردیجیے، نفس وشیطان کے طوفان میں ڈوبنے نہ دیجیے۔ اے اللہ! اگر آپ ہمارے اعمال پر نظر ڈالیں تو ہم میں سے کوئی بھی پار نہیں ہوسکتا۔ اگر ہمارے اعمال کے مطابق آپ فیصلہ کریں تو پھر ہمارے لیے جہنم تیار ہے۔ اس لیے مولانا اللہ میاں سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے فعل کو نہ دیکھیے، اپنے کرم کو دیکھیے،جیسے ایران کے ایک بادشاہ نے اپنے ملازم رمضانی سے کہا تھا کہ ’’رمضانی! مگساں می آیند‘‘ یعنی رمضانی! مکھیاں آرہی ہیں۔ تو اس ظالم نے کیا جواب دیا کہ ’’حضور! ناکساں پیش کساں می آیند‘‘حضور! نالائق لائق کے پاس آرہی ہیں ۔ مکھیاں تو نالائق ہیں لیکن آپ تو لائق ہیں اگر نالائق لائق کے پاس نہ آئیں گی تو یہ جائیں گی کہاں؟ اسی طرح مولانا رُومی عرض کررہے ہیں کہ اے اللہ! ہم نالائق ہیں مگر آپ ہماری نالائقی پر نظر نہ کیجیے، اپنے کرم پر نظر کیجیے، نالائقوں کا ٹھکانہ لائق کے سوا کہاں ہے۔ خوش سلامت ما بہ ساحل با ز بر اے رسیدہ دستِ تو در بحر و بر اے خدا! مجھے سلامتی کے ساتھ ساحل تک پہنچادیجیے، میرے نفس کی خواہشات کے سمندر میں طوفان آرہا ہے اور اس کے اندر میری کشتی ایمان وتقویٰ کی چل رہی ہے۔ مجھے اپناایک بہت پرانا شعر یاد آیا ؎ ہٹو میری نظروں سے امواج رنگیں یہ کشتی پیا کے نگر جا رہی ہے یعنی اگر رنگین موجیں سامنے آجائیں اور یہ کشتی وہیں کھڑی ہو کر تماشا دیکھنے لگے تو