فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
منزل طے ہوگی؟ اس لیے میں نے کہا ہے کہ اے رنگین موجوں! میرے سامنے سے ہٹ جاؤ۔ حسینوں کو رنگین موجوں سے میں نے تعبیر کیا ہے۔ یہ حسنِ فانی بڑے بڑوں کو اپنے چکر میں لے لیتا ہے اور بندہ اللہ سے محروم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد حسن بھی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ سب سڑنے گلنے والی لاشیں ہیں۔ قبروں میں دیکھو کہ ان حسینوں کا کیا حال ہے۔ اسی لیے میں نے کہا کہ ؎ یہ کشتی پیا کے نگر جارہی ہے یعنی یہ کشتی اللہ کی طرف جارہی ہے، ہمارے پیارے اللہ کے پاس جارہی ہے، اس لیے حسینوں سے صَرفِ نظر ضروری ہے، ورنہ اگر ان حسین موجوں کی رنگینیوں میں پھنس گئی تو میرے ایمان وتقویٰ کی کشتی اللہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ اسی لیے مولانا رُومی اللہ تعالیٰ سے فریاد کر رہے ہیں کہ اے اللہ! ساحل تک مجھے سلامتی سے پار کردیجیے۔اور آپ سے ہم کیوں فریاد کررہے ہیں؟ اس لیے کہ آپ ہی کی وہ ذات ہے جس کا دستِ قدرت خشکی میں بھی پہنچا ہوا ہے اور سمندروں میں بھی پہنچا ہوا ہے، اس لیے بحر ہو یا بَر جہاں بھی کوئی آفت آئے گی ہم آپ ہی کو پکاریں گے کیوں کہ ہر جگہ آپ کی قدرت کام کررہی ہے۔ کوئی سمندر کی گہرائی میں ڈوب جائے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کو صحیح سلامت نکالنے پر قادر ہے، جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا اور ان کو لےکر بھاگی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے مچھلی ! میرا بندہ یونس تیری خوراک نہیں ہے ۔ میں نے تیرے پیٹ کو ان کے لیے قید خانہ بنایا ہے، وہ تیرے پاس امانت ہیں، ان کی حفاظت تیرے ذمہ واجب ہے۔ خبردار ! ان کو پیسنا مت۔ اور اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے معدے کا فعل روک دیا۔چناں چہ وہ صحیح سلامت رہے اور سمندر کی تہہ میں جب مچھلی گئی تو سمندر کی کنکریوں کو حکم دیا کہ اے کنکریو! تم پڑھو : لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ؎ تاکہ میرے پیغمبر کو پتا چل جائے کہ اس وقت مجھے یہ وظیفہ پڑھنا ہے ۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ ------------------------------