ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2014 |
اكستان |
|
حضرت حسن بصری کو حجاج سے خطرہ اور اُس کی وجہ : تو حسن بصری رحمة اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ بنتے ہیں اِس لحاظ سے کہ اُنہوں نے فیض حاصل کیا ہے رُوحانی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ،چلے آئے بصرہ میں اور دَور اُن کا تابعین کا اور اُس میں فتنے ہوئے طرح طرح کے حتی کہ حجاج اِبن یوسف بھی اُن کے دَورمیں آیا، حجاج اِبن یوسف سے وہ چھپ کر رہتے تھے یعنی چاہتے تھے کہ میرا پتہ نہ چلے کہ کہاں ہوں میں، پہلے پتہ چلتا رہا ہے اُس کو لیکن اُس کے مزاج میں حسد بھی تھا ایک طرح کا، اُس سے بادشاہ عبدالملک اِبن مروان نے پوچھا جو خلیفہ تھا کہصِفْ نَفْسَکْ مجھے بتاؤ تم اپنے بارے میں، اپنا حال بتاؤ، اپنامزاج بتاؤ کہ تمہارا مزاج کیا ہے ؟ پہلے تو بچنا چاہا مگر اُس نے کہا نہیں بتاؤ بالکل صاف صاف بتاؤ تمہارے دِل میں کیا کیفیات ہوتی ہیں طبیعت تمہاری کس طرح کی ہے جسے کہتے ہیں اُفتادِ طبع یا خدا نے جو بنائی ہو فطرت وہ بتاؤ کہ کیا ہے ؟ اور وہ اِطاعت ِ خلیفہ فرض سمجھتا تھا (اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ )سے کہ جو تم میں حکمران ہیں اُن کی اِطاعت کرو وہ سمجھتا تھا اُس کا یہ عقیدہ تھا کہ حاکمِ اعلی کی اِطاعت فرض ہے۔ تواُس نے جواب میں کہا اَنَا حَسُوْد حَقُوْد لَجُوْج کہ حسد میرے دِل میں بہت زیادہ ہے، میرے دِل میں کینہ بہت رہتا ہے اور لَجُوْج کسی چیز کے پیچھے پڑجاؤں تو بس چھوڑتا نہیں .......... لیکن اِس کا مسلک تھا کہ اِطاعت ِ اَمیر فرض ہے اور جو نہیں کرے گا وہ کافر ہوگیا ،یہ دماغ میں اِس کے بسی تھی اپنی طرف سے اپنے اِجتہاد سے۔ ''آدم کُش ''حجاج کے چند واقعات : لیکن بہت قابلیت والا آدمی تھا دماغی صلاحتیں نہایت اعلیٰ تھیں اور لمبا مقابلہ کرنے کی قدرت بڑی تھی اِس میں، مقابلہ بڑے جوش و خروش سے اور بہت زور دار طرح کرلیا جائے یہ ہوسکتا ہے لیکن جب لمبا ہوجائے مہینوں برسوں لڑائی ہوجائے پھر اُس پر جمے رہنا یہ بڑا مشکل ہے اِس میں ہی اَمریکا ہار گیا ویتنام میںاور اَلجزائر میں فرانس ہار گیا اور کہاں کہاں کتنی بڑی بڑی طاقتوں کو رُجوع کرنا پڑا کہ