اور چونکہ صرف سلام واجب باقی ہے اسلئے یوں کہا جائے گا کہ نقص کے ساتھ نماز پوری ہو گئی ۔
اصول : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک سلام تو فرض نہیں ہے لیکن ٫خروج بصنعہ ، فرض ہے خروج بصنعہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ارادے سے کوئی ایسی حرکت کرے جس کی وجہ سے نماز سے نکل جائے ۔۔ چونکہ اس نے جان بوجھ کر حدث کیا ہے ، یا بات کی ہے ، یا نماز کے منافی عمل کیا ہے ۔ اسلئے خروج بصنعہ پایا گیا جو فرض ہے تو گویا کہ آخری فرض بھی پورا کر دیا اسلئے نقص کے ساتھ نماز پوری ہو جائے گی ۔اور اوپر کے مسئلہ نمبر ٣٨٤ میں حدث جان کر نہیں کیا بلکہ خود ہو گیا اسلئے خروج بصنعہ نہیں پایا گیا اسلئے ایک فرض رہ گیا اسلئے اوپر کی صورت میں نماز پوری نہیں ہو ئی وضو کر کے سلام کرے اور گویا کہ خروج بصنعہ فرض کو بجا لائے ۔
وجہ: (١)تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد جان بوجھ کر حدث کرنے سے اس کے ذمہ کوئی فرض باقی نہیں رہاتھاصرف سلام کرنا واجب باقی رہا تھا۔اس لئے نماز ایک حیثیت سے پوری ہو گئی تھی لیکن سلام چھوڑا اس لئے اچھا نہیں کیا تھا اور بنا اس لئے نہیں کر سکتا کہ جان بوجھ کر قاطع اور مانع لے آیا اس لئے نماز پر بنا بھی نہیں کر سکتا۔اس لئے یہی کہا جائے گاکہ نماز پوری ہو گئی لیکن واجب کی کمی کے ساتھ (٢) نماز پوری ہونے کی دلیل حدیث میں ہے ۔عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ۖ قال اذا قضی الامام الصلوة وقعد فاحدث قبل ان یتکلم فقد تمت صلوتہ ومن کان خلفہ ممن اتم الصلوة ۔ ( ابو داؤد شریف، باب الامام یحدث بعد یا یرفع رأسہ ص ٩٨ نمبر ٦١٧ ترمذی شریف ،باب ما جاء فی الرجل یحدث بعد ا لتشھد ، ص ٩٢ ، نمبر ٤٠٨ دار قطنی ، باب من احدث قبل التسلیم فی آخر صلوتہ او احدث قبل تسلیم الامام فقد تمت صلوتہ ص ٣٦٨ نمبر ١٤٠٧)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد حدث کر دیا تو نماز پوری ہو گئی ۔بلکہ کوئی آدمی امام کے پیچھے ہو اور امام کے سلام کرنے سے پہلے اس نے جان بوجھ کر حدث کر دیا تو اس آدمی کی نماز پوری ہو جائے گی۔اور اگرچہ اس پر سلام کا واجب باقی رہا۔حدیث میں ہے عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ۖ قال اذا جلس الامام فی آخر رکعة ثم احدث رجل من خلفہ قبل ان یسلم الامام فقد تمت صلوتہ ۔ (دار قطنی ، باب من احدث قبل التسلیم ، ج اول ،ص ٣٦٨ نمبر ١٤٠٧ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقتدی بھی مقدار تشہد بیٹھنے کے بعد حدث کر دے تو اس کی نماز پوری ہوجائے گی۔
فائدہ : امام شافعی کے نزدیک سلام فرض ہے اس لئے تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد حدث کر دیا تو چونکہ فرض باقی رہ گیا اس لئے نماز فاسد ہو جائے گی۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے عن علی عن النبی ۖ قال مفتاح الصلوة الطھور وتحریمھا التکبیر وتحلیلھا التسلیم ۔ (ترمذی شریف ، باب ماجاء مفتاح الصلوة الطھور ص ٥ نمبر ٣ ابو داؤد شریف ، باب الامام یحدث بعد ما یرفع رأسہ من آخر رکعتہ ص ٩٨ نمبر ٦١٨) اس حدیث کی وجہ سے جس طرح طہارت اور تکبیر تحریمہ فرض ہیں اسی طرح ان کے یہاں سلام بھی فرض ہے۔ہم کہتے ہیں کہ طہارت اور تکبیر تحریمہ فرض ہونے کی وجہ دوسری آیتیں ہیںصرف یہ حدیث نہیں ہے۔