Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

54 - 627
کرتے بلکہ اس سے کچھ پہلے وضوء کرتے ہیں۔ اس لئے آیت سے پہلے ایک قید بڑھانی ہوگی یعنی  اذا اردتم القیام الی الصلوة۔ تم نماز میں کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو وضوء کر لو۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر نماز پڑھتے وقت پہلے سے وضوء ہو تو وضوء کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے ایک قید اور بھی بڑھانا ہوگی اذا قمتم الی الصلوة وانتم محدثون یعنی تم نماز کے لئے کھڑے ہو اس حال میں کہ تم محدث ہو تو وضوء کرلو اور محدث نہ ہو تو وضوء کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ طہارت کے با وجود وضوء کرنا مستحب ہے۔
فاغسلوا  :  غسل  غ کے فتحہ کے ساتھ کسی چیز پر پانی بہا کر میل کچیل دور کرنا،کسی چیز کو دھونا اور غسل غ کے ضمہ کے ساتھاسم ہے غسل سے۔  اسی کو مصنف  نے الغسل ھوالاسالة: کہا کہ پانی بہانے کا نام دھونا ہے ۔اور ہاتھ پر پانی لگا ہوا ہو اس سے عضو کو پونچھ لے تو اسکو مسح کرنا کہتے ہیں ۔جسکو مصنف نے المسح ھو الاصابة ،کہا ہے ۔
    وجوہ  :  وجہ کی جمع ہے، چہرہ۔سر کے بال اگنے کی جگہ سے لیکر تھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں دونوں کانوں کے نرم حصہ تک کو چہرہ کہتے ہیں۔
 وجہ  :  مواجہت سے مشتق ہے۔ اور آدمی کسی کے سامنے آئے تو چہرے کا اتنا حصہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے اس لئے اتنے حصے کو وجہ کہتے ہیں۔ مرافق  :  مرفق کی جمع ہے، کہنی۔ امسحوا  :  مسح سے مشتق ہے پونچھنا۔ بھیگے ہوئے ہاتھ کو کسی عضوپر پھیرنا۔ وارجلکم  :  رجل کی جمع ہے۔ ارجلکم پر فتحہ ہوگا اور عطف وجوھکم پر ہوگا ۔اور مطلب یہ ہوگا کہ چہرے کو دھوؤ اور پاؤں کو بھی دھوؤ۔ حضرت نافع ، ابن عامر ، کسائی ، یعقوب اور امام حفص کی قرأت میں یہی ہے۔ اور قرآن کریم کے عام نسخوں میں لام پر فتحہ والی قرأت ہے۔ جمہور کا مسلک بھی یہی ہے کہ پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھونا ضروری ہے ورنہ وضوء نہیں ہوگا۔ ان کے دلائل یہ ہیں(١) قرآن نے وارجلکم الی الکعبین کہا ہے۔ اگر مسح کرنا فرض ہوتا تو الی الکعبین کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ ٹخنوں تک کرو۔بلکہ رء وسکم کی طرح مطلق بیان کرتے۔ کعبین کی قید لگانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ٹخنوں تک دھونا فرض ہے(٢) حضرت ابی وقاص سے روایت ہے کہ انی سمعت رسول اللہ ۖ انہ یقول ویل للاعقاب من النار (الف) (مسلم شریف،باب وجوب غسل الرجلین بکمالھا، ص ١٢٤ نمبر ٢٤٠اور بخاری شریف ، باب غسل الاعقاب ص ٢٨ نمبر ١٦٥) ایڑی پانی سے تر نہ ہو تو اس کو آگ چھوئے گی۔ تو اگر پاؤں پر مسح کریں تو ایڑی پر پانی نہیں آئے گا جس کی وجہ سے وہ جہنم کی آگ کے قابل ہوگی۔ اس لئے پاؤں پر مسح کرنا کافی نہیں ہوگا۔(٣)  خود حضرت علی سے روایت ہے کہ انہوں نے وضوء فرمایا اور پاؤں کو دھویا ۔ قال اتانا علی وقد صلی ثم غسل رجلہ الیمنی ثلاثا و رجلہ الیسری ثلاثا ۔(ابوداؤد ، باب صفة وضوء النبیۖ ص ١٥ نمبر ١١٤١١١)
ارجلکم :کی دوسری قرأت لام کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ یہ قرأت مشہور نہیں ہے۔ اس صورت میں ارجلکم کا عطف برء وسکم پر ہوگا۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ پاؤں پر بھی سر کی طرح مسح کرو۔ امام شافعی  فرماتے ہیں کہ ارجلکم کا عطف برء وسکم پر کرکے یہ مطلب لیا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter