(١) قال اﷲ تعالیٰ : یأیھا الذین اٰمنوا اذا قمتم الی الصلوة فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم الی المرافق وأمسحوا برؤسکم وأرجلکم الی الکعبین۔) آیت ٦، سورة مائدة ٥
مخصوص اعضاء کے دھونے کو طہارت کہتے ہیں۔ اس کا الٹا ہے حدث۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ رفع حدث یا ازالۂ نجس کا نام طہارت ہے۔
نوٹ: پاک کرنے کو طَہارة بفتح ط، پاک کرنے کے بعد جو پانی باقی رہ جائے اس کو طُھارة ط کے ضمہ کے ساتھ۔ اور پاک کرنے کا جو آلہ ہوتا ہے جیسے پانی اور مٹی اس کو طِھارة ط کے کسرہ کے ساتھ بولتے ہیں۔ پاک پانی نہ ہو تو مٹی پاک کرنے لئے چند شرائط کے ساتھ پانی کے قائم مقام ہوتی ہے ۔
نوٹ:اقسام طہارت : (١) اعتقادات کی طہارت جیسے اللہ رسول اور قیامت کے ساتھ وہ اعتقاد رکھنا جوقرآن اورحدیث کے مطابق ہو(٢) مال کی طہارة جیسے مال کی زکوة دینا (٣) بدن کی طہارة جیسے وضو کرنا ، غسل کرنا۔ کپڑے کی طھارة جیسے کپڑے کو پاک کرنا۔چونکہ بہت سے طہارتوں کو بیان کرنا ہے اسلئے مصنف نے طہارات جمع کا صیغہ لایا ۔
ترجمہ : (١) اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ اے ایمان والو جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کو کہنیوں سمیت اور اپنے سر پر مسح کر لو۔ اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو
وجہ : آیت کو شروع میں لکھنے کی وجہ یہ ہیں(الف) برکت لئے (ب) وضوء میں کتنے اعضاء دھوئے جائیںگے اس کا تذکرہ ہے۔ تو گویا کہ آیت اعضاء وضوء دھونے کی دلیل ہو گئی۔ آیت میں تین اعضاء دھونے اور ایک عضو کے مسح کرنے کا ذکر ہے(١) چہرہ دھویا جائیگا (٢) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے جائیںگے (٣) پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے جائیںگے اور سر پر مسح کیا جائے گا۔ ہر ایک عضو کی مقدار اور ان کی دلیلیں آگے آئیںگی ۔یہ حدیث اعضائے وضو کیلئے جامع ہے ۔ان حمران مولی عثمان اخبرہ انہ رأی عثمان بن عفان دعا باناء ،فافرغ علی کفیہ ثلاث مرار فغسلھما ،ثم ادخل یمینہ فی الاناء فمضمض و استنثر ثم غسل وجھہ ثلاثا و یدیہ الی المرفقین ثلاث مرار ،ثم مسح برأسہ ،ثم غسل رجلیہ ثلاث مرار الی الکعبین ،ثم قال : قال رسول اللہ ۖ : من توضأ نحو وضوئی ھذا ثم صلی رکعتین لایحدث فیھما نفسہ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ۔( بخاری شریف ،باب الوضوء ثلاثا ثلاثا ،ص ٣٢ نمبر ١٥٩ابوداود شریف ،باب صفة وضوء النبی ۖ ،ص ٢٦ نمبر١٠٨ )اس حدیث میں ہے کہ تین مرتبہ چہرہ دھویا ،پھر تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھویا ،پھر ایک مرتبہ سر کا مسح کیا ، پھر دونوں پائوںکو ٹخنوں سمیت دھویا ۔اور فرمایا کہ یہ حضور ۖ کا وضو ء ہے ۔
لغت: اذا قمتم الی الصلوة جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اعضاء دھوؤ۔ نماز میں کھڑے ہونے کے وقت وضوء نہیں