Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

53 - 627
(١)  قال اﷲ تعالیٰ : یأیھا الذین اٰمنوا اذا قمتم الی الصلوة فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم الی المرافق وأمسحوا برؤسکم وأرجلکم الی الکعبین۔) آیت ٦، سورة مائدة ٥

مخصوص اعضاء کے دھونے کو طہارت کہتے ہیں۔ اس کا الٹا ہے حدث۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ رفع حدث یا ازالۂ نجس کا نام طہارت ہے۔
 نوٹ:  پاک کرنے کو طَہارة  بفتح ط، پاک کرنے کے بعد جو پانی باقی رہ جائے اس کو طُھارة ط کے ضمہ کے ساتھ۔ اور پاک کرنے کا جو آلہ ہوتا ہے جیسے پانی اور مٹی اس کو طِھارة ط کے کسرہ کے ساتھ بولتے ہیں۔ پاک پانی نہ ہو تو مٹی پاک کرنے لئے چند شرائط کے ساتھ پانی کے قائم مقام ہوتی ہے ۔
  نوٹ:اقسام طہارت  :  (١) اعتقادات کی طہارت  جیسے اللہ رسول اور قیامت کے ساتھ وہ اعتقاد رکھنا جوقرآن اورحدیث کے مطابق ہو(٢) مال کی طہارة جیسے مال کی زکوة دینا (٣) بدن کی طہارة جیسے وضو کرنا ، غسل کرنا۔ کپڑے کی طھارة جیسے کپڑے کو پاک کرنا۔چونکہ بہت سے طہارتوں کو بیان کرنا ہے اسلئے مصنف  نے طہارات جمع کا صیغہ لایا ۔
ترجمہ :  (١)  اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ اے ایمان والو جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کو کہنیوں سمیت اور اپنے سر پر مسح کر لو۔ اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو  
وجہ : آیت کو شروع میں لکھنے کی وجہ یہ ہیں(الف) برکت لئے  (ب) وضوء میں کتنے اعضاء دھوئے جائیںگے اس کا تذکرہ ہے۔ تو گویا کہ آیت اعضاء وضوء دھونے کی دلیل ہو گئی۔ آیت میں تین اعضاء دھونے اور ایک عضو کے مسح کرنے کا ذکر ہے(١) چہرہ دھویا جائیگا (٢) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے جائیںگے (٣) پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے جائیںگے اور سر پر مسح کیا جائے گا۔ ہر ایک عضو کی مقدار اور ان کی دلیلیں آگے آئیںگی ۔یہ حدیث اعضائے وضو کیلئے جامع ہے ۔ان حمران مولی عثمان اخبرہ انہ رأی عثمان بن عفان دعا باناء ،فافرغ علی کفیہ ثلاث مرار فغسلھما ،ثم ادخل یمینہ فی الاناء فمضمض و استنثر ثم غسل  وجھہ ثلاثا  و یدیہ الی المرفقین ثلاث مرار ،ثم مسح برأسہ  ،ثم غسل رجلیہ ثلاث مرار الی الکعبین ،ثم قال : قال رسول اللہ ۖ : من توضأ نحو وضوئی ھذا ثم صلی رکعتین لایحدث فیھما نفسہ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ۔( بخاری شریف ،باب الوضوء ثلاثا ثلاثا ،ص ٣٢ نمبر ١٥٩ابوداود شریف ،باب صفة وضوء النبی  ۖ ،ص ٢٦ نمبر١٠٨ )اس حدیث میں ہے کہ تین مرتبہ   چہرہ دھویا  ،پھر تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھویا ،پھر ایک مرتبہ سر کا مسح کیا ، پھر دونوں پائوںکو ٹخنوں سمیت دھویا ۔اور فرمایا کہ یہ حضور  ۖ کا وضو ء ہے ۔ 
 لغت:  اذا قمتم الی الصلوة  جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اعضاء دھوؤ۔ نماز میں کھڑے ہونے کے وقت وضوء نہیں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter