١ اما المرأة فلقولہ ں:اخّر وہن من حیث اخرہن اللّٰہ فلا یجوز تقدیمہا ٢ واما الصبی فلانہ متنفل فلا یجوز اقتداء المفترض بہ
گی !
نوٹ : ابو داؤد شریف میں عورتوں کی امامت کے سلسلے میں ایک حدیث نقل کی ہے عن ام ورقة بنت عبد اللہ بن حارث بھذا الحدیث قال کان رسول اللہ یزورھا فی بیتھا و جعل لھا مؤذنا یؤذن لھا وامرھا ان تؤم اھل دارھا ۔ (ابوداؤد شریف، باب امامة النساء ص ٩٥ نمبر ٥٩٢)اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت امامت کر سکتی ہے۔ لیکن اس میں اس کا ثبوت نہیں ہے کہ وہ مرد کی امامت کرتی تھی۔سنن للبیھقی اور دیگر احادیث کوملانے سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کرتی تھی مرد کی نہیں۔
ترجمہ: ١ بہر حال عورت کی امامت تو حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے ، کہ عورتوں کو پیچھے رکھو جس طرح اللہ نے ان کو پیچھے رکھا ہے ۔ اسلئے اسکو آگے کر نا جائز نہیں ہے ۔
تشریح : صاحب ھدایہ کا اثر یہ ۔ عن ابن مسعود قال : کان الرجال و النساء فی بنی اسرائیل یصلون جمیعا ،فکانت المرأة اذا کان لھا الخلیل تلبس القالبین تطول بھما لخلیلھا ، فالقی اللہ علیھن الحیض ، فکان ابن مسعود یقول : أخروھن حیث أخرھن اللہ ۔ ( طبرانی کبیر ، باب عبد اللہ بن مسعود الھذلی ،ج تاسع ،ص ٢٩٥ ، نمبر ٩٤٨٤) اس اثر میں ہے کہ عورتوں کو موء خر کرو جس طرح اللہ نے اسکو موء خر کیا ۔
عورت مرد کی امامت کرے اسکے لئے بہت سے احادیث نقل کی ہیں ۔ البتہ صاحب ھدایہ کی یہ حدیث مجھے بہت تلاش کے با وجود نہیںملی ، کہتے ہیں کہ مصنف عبد الرزاق میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا قول ہے ، لیکن مجھے نہیں ملا ۔ نصب الرایہ میں ہے کہ طبرانی میں ہے لیکن طبرانی میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ اسکا مفہوم اس حدیث میں ہے عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ خیر صفوف الرجال اولھا وشرھا آخرھا و خیر صفوف النساء آخرھا و شرھا اولھا (مسلم شریف، باب تسویة الصفوف واقامتھا وفضل الاول الخ ص١٨٢ نمبر ٩٨٥٤٤٠ ابوداؤد شریف ، باب صف النساء والتأخر عن الصف الاول ،ص ١٠٦ نمبر ٦٧٨) اس حدیث میں ہے کہ عورت کا پچھلا صف زیادہ بہتر ہے ۔
ترجمہ : ٢ بہر حال بچے کی امامت تو اسلئے جائز نہیں ہے کہ وہ نفل پڑھنے والا ہے اسلئے فرض پڑھنے والے کی اقتداء اسکے ساتھ جائز نہیں ہے ۔
تشریح : بچہ امامت کرے اور بالغ مرد اسکی اقتداء کرے تو اس لئے جائز نہیں کہ اس کی نماز ہی نہیں ہے۔وہ نماز توڑ دے تو اس