١ وقال زفروالشافعی قلیل النجاسة و کثیرھاسواء لان النص الموجب للتطھیر لم یفصل٢ و لنا ان القلیل لا یمکن التحرز عنہ فیجعل عفواً،
٥) اس آیت میں بھی شراب کو ناپاک قرار دیا ہے۔
مرغی کی بیٹ ناپاک ہے اسکی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن حماد انہ کرہ ذرق الدجاج ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٦فی خرء الدجاج ، ج اول ، ص١١١، نمبر ١٢٦٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ مرغی کی بیٹ ناپاک ہے ۔
گدھے کا پیشاب اسلئے نجاست مغلظہ ہے کہ اسکا گوشت کھانا حلال نہیں ہے ، اور وہ ماکول اللحم نہیں ہے ، ماکول اللحم نہ ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن انس بن مالک أن رسول اللہ ۖ جاء ہ جاء فقال أکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال اکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال أفنیت الحمر فأمر مناد یا فنادی فی الناس : ان اللہ و رسولہ ینھیانکم عن لحوم الحمر الاھلیة فانھا رجس ۔ ( بخاری شریف ، باب لحوم الحمرالانسیة ، ص ٩٨٣ نمبر ٥٥٢٨ مسلم شریف ، باب تحریم أکل لحم الحمر الانسیة ، ص ٨٦٨ نمبر ١٩٤٠ ٥٠٢١ ) اس حدیث میں ہے کہ گدھے کا گوشت نجس ہے اسلئے اسکا پیشاب بھی نجاست مغلظہ ہوگا ۔
ترجمہ: ١ اور زفر اور امام شافعی نے فر مایا کہ تھوڑی نجاست اور زیادہ نجاست برابر ہے اسلئے کہ نص جو پاکی کو واجب کرتی ہے اس میں کم زیادہ کی تفصیل نہیں ہے ۔
تشریح : امام زفر اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ نجاست درھم کی مقدار سے کم ہو یا زیادہ ہو ہر حال میں دھونا ہی پڑے گا ۔ موسوعة میں اس طرح ہے ۔ فاذا کان الدم لمعة مجتمعة و ان کانت اقل من موضع دینار أو فلس وجب علیہ غسلہ ۔ ( موسوعة للامام الشافعی ، باب طھارة الثیاب ، ج اول ، ص ٢١٧، نمبر ٧٤٠ ) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نجاست کم ہو یا زیادہ ہر حال میں دھونا ہی پڑے گا ۔
وجہ: انکی دلیل ہی ہے کہ حیض کے خون کو دھونا ہی پڑتا ہے حال آنکہ وہ عموما درھم سے کم ہو تاہے جس سے معلوم ہوا کہ کم نجاست کو بھی دھونا ہی پڑے گا حدیث یہ ہے۔ عن اسماء بنت ابی بکر انھا قالت سألت امرأة رسول اللہ ۖ فقالت یا رسول اللہ ارأیت احدانا اذا اصاب ثوبھا الدم من الحیضة کیف تصنع فقال رسول اللہ اذا اصاب ثوب احداکن الدم من الحیضة فلتقرصہ ثم لتنضحہ بماء ثم لتصل فیہ۔ (بخاری شریف ، باب غسل دم المحیض ص٤٥ نمبر ٣٠٧ ترمذی شریف،باب ماجاء فی غسل دم المحیض من الثوب،ص ٣٥، نمبر ١٣٨) اس حدیث میں ہے کہ حیض کا خون لگ جائے تو دھوء اور یہ تفصیل نہیں ہے کہ کم لگے تو مت دھوئو اور زیادہ لگے تو دھوئو، اسلئے کم زیادہ ہر حال میں دھو نا واجب ہو گا ۔
ترجمہ: ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ تھوڑی نجاست سے بچنا ممکن نہیں ہے اسلئے اسکو معاف قرار دیا گیا ۔