Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

298 - 627
  ١ وقال زفروالشافعی قلیل النجاسة و کثیرھاسواء لان النص الموجب للتطھیر لم یفصل٢ و لنا ان القلیل لا یمکن التحرز عنہ فیجعل عفواً،

٥) اس آیت میں بھی شراب کو ناپاک قرار دیا ہے۔
مرغی کی بیٹ ناپاک ہے اسکی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن حماد انہ کرہ  ذرق الدجاج ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٦فی خرء الدجاج ، ج اول ، ص١١١، نمبر ١٢٦٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ مرغی کی بیٹ ناپاک ہے ۔
گدھے کا پیشاب اسلئے نجاست مغلظہ ہے کہ اسکا گوشت کھانا حلال نہیں ہے ، اور وہ ماکول اللحم نہیں ہے ، ماکول اللحم نہ ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن انس بن مالک أن رسول اللہ  ۖ جاء ہ جاء فقال أکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال اکلت الحمر ، ثم جاء ہ جاء فقال أفنیت الحمر فأمر مناد یا فنادی فی الناس : ان اللہ و رسولہ ینھیانکم  عن لحوم الحمر الاھلیة فانھا رجس ۔ ( بخاری شریف ، باب لحوم الحمرالانسیة ، ص ٩٨٣ نمبر ٥٥٢٨ مسلم شریف ، باب تحریم أکل لحم الحمر الانسیة ، ص ٨٦٨ نمبر ١٩٤٠ ٥٠٢١ )  اس حدیث میں ہے کہ گدھے کا گوشت نجس ہے اسلئے اسکا پیشاب بھی نجاست مغلظہ ہوگا ۔
ترجمہ:  ١   اور زفر  اور امام شافعی  نے فر مایا کہ تھوڑی نجاست اور زیادہ نجاست برابر ہے اسلئے کہ نص جو پاکی کو واجب کرتی ہے اس میں کم زیادہ کی تفصیل نہیں ہے ۔
تشریح :   امام زفر اور امام شافعی  فرماتے ہیں کہ نجاست درھم کی مقدار سے کم ہو یا زیادہ ہو ہر حال میں دھونا ہی پڑے گا ۔ موسوعة میں اس  طرح ہے ۔ فاذا کان الدم لمعة مجتمعة و ان کانت اقل من موضع دینار أو فلس وجب علیہ غسلہ ۔ ( موسوعة للامام الشافعی  ، باب طھارة الثیاب ، ج اول ، ص ٢١٧، نمبر ٧٤٠ )  اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نجاست کم ہو یا زیادہ ہر حال میں دھونا ہی پڑے گا ۔
وجہ:   انکی دلیل ہی ہے کہ حیض کے خون کو دھونا ہی پڑتا ہے حال آنکہ وہ عموما درھم سے کم ہو تاہے جس سے معلوم ہوا کہ کم نجاست کو بھی دھونا ہی پڑے گا حدیث یہ ہے۔ عن اسماء بنت ابی بکر انھا قالت سألت امرأة رسول اللہ ۖ فقالت یا رسول اللہ ارأیت احدانا اذا اصاب ثوبھا الدم من الحیضة کیف تصنع فقال رسول اللہ اذا اصاب ثوب احداکن الدم من الحیضة فلتقرصہ ثم لتنضحہ بماء ثم لتصل فیہ۔ (بخاری شریف ، باب غسل دم المحیض ص٤٥ نمبر ٣٠٧ ترمذی شریف،باب ماجاء فی غسل دم المحیض من الثوب،ص ٣٥، نمبر ١٣٨) اس حدیث میں ہے کہ حیض کا خون لگ جائے تو دھوء  اور یہ تفصیل نہیں ہے کہ کم لگے تو مت دھوئو اور زیادہ لگے تو دھوئو، اسلئے کم زیادہ ہر حال میں دھو نا واجب ہو گا ۔
ترجمہ:  ٢   ہماری دلیل یہ ہے کہ تھوڑی نجاست سے بچنا ممکن نہیں ہے اسلئے اسکو معاف قرار دیا گیا ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter