(٣٨) قال (القدوری) ولیس فی المذی،والودی غسل وفیھماالوضوء ) ١ لقولہ علیہ السلام: کل فحل یمذی وفیہ الوضوء ٢ والودی الغلیظ من البول یتعقب الرقیق منہ خروجا فیکون معتبر ابہ
ترجمہ: (٣٨) اور مذی اور ودی نکلنے سے غسل نہیں ہے۔ان میں وضو واجب ہے ۔
وجہ : (١) مذی اور ودی منی نہیںہیں اور نہ وہ کود کر نکلتے ہیں،اور نہ اس کے نکلتے وقت اتنی شہوت ہوتی ہے ۔اس لئے ان دونوں کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہے صرف وضو واجب ہوگا(٢)حدیث میں ہے عن علی ابن طالب ارسلنا المقداد بن الاسود الی رسول اللہ ۖ فسألہ عن المذی یخرج من الانسان کیف یفعل بہ؟ فقال رسول اللہ ۖ توضأ وانضح فرجک (مسلم شریف، باب المذی ص ١٤٣ نمبر ٦٩٧٣٠٣)(٢) سألت النبی ۖ عن المذی؟ فقال من المذی الوضوء ومن المنی الغسل(ترمذی شریف، باب ماجاء فی المنی والمذی ص ٣١ نمبر ١١٤ ابوداؤد شریف ،باب فی المذی ص ٣١ نمبر ٢٠٧)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مذی نکلے تو وضو واجب ہے غسل نہیں۔
ترجمہ: ١ حضور ۖ کے قو ل کی وجہ سے کہ ہر مرد کو مذی آتی ہے اور اس میں وضو ہے ۔حدیث یہ ہے عن عمہ عبد اللہ بن سعد الانصاری قال :سألت رسول اللہ ۖ عما یوجب الغسل و عن الماء یکون بعد الماء ؟ فقال : ذالک المذی ،و کل فحل یمذی ،فتغسل من ذالک فرجک و أنثییک و توضأ وضوئک للصلاة۔(ابوداود شریف ،باب فی المذی ،ص ٣١ نمبر ٢١١ )
ترجمہ: ٢ ودی گاڑھا پیشاب ہے جو پتلے پیشاب کے بعد نکلتا ہے اسلئے پیشاب ہی کا اعتبار کیا جائے گا
تشریح: ودی : بھی مذی کی طرح ایک پانی ہے۔ بلکہ مذی میں تو تھوڑی شہوت ہوتی ہے ودی میں شہوت نہیں ہوتی وہ پیشاب کے بعد نکلتی ہے۔ اس لئے ودی میں وضو ہی واجب ہوگا۔اسکی تفسیر اس اثر میں ہے عن معمر عمن سمع عکرمة قال :ھی ثلاثة المذی ، والودی ، والمنی ،فاما المذی : فھو الذی یخرج اذا لاعب الرجل امرأتہ ففیہ غسل الفرج و الوضوء ،و اما الودی فھو الذی یکون مع البول و بعدہ فیہ غسل الفرج ،والوضوء ایضاً،واما المنی فھو الماء الدافق الذی یکون فیہ الشھوة و منہ یکون الولد ففیہ الغسل ۔( مصنف عبد الرزاق ۔باب المذی ،ج اول ،ص ١٥٩،نمبر ٦١١ ) اس اثر میں تینوں کی تفسیر ہے اور حکم بھی (٢) اثر میں ہے ۔سمعت ابن عباس یقول : المنی و الودی و المذی ،أما المنی فھو الذی منہ الغسل ،و أما الودی و المذی فقال اغسل ذکرک أو مذاکیرک و توضأ وضوئک للصلاة (سنن للبیھقی، باب المذی والودی لا یوجبان الغسل ،ج اول، ص٢٦٢،نمبر ٨٠٠طحاوی شریف، باب ا لرجل یخرج من ذکرہ المذی کیف یغسل ج اول ص ٣٩)اس اثر میں تینوں کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔