Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

115 - 627
(٣٨) قال (القدوری) ولیس فی المذی،والودی غسل وفیھماالوضوء ) ١ لقولہ علیہ السلام:  کل فحل یمذی وفیہ الوضوء  ٢  والودی الغلیظ من البول یتعقب الرقیق منہ خروجا فیکون معتبر ابہ

ترجمہ:  (٣٨) اور مذی اور ودی نکلنے سے غسل نہیں ہے۔ان میں وضو واجب ہے ۔
وجہ :   (١) مذی اور ودی منی نہیںہیں اور نہ وہ کود کر نکلتے ہیں،اور نہ اس کے نکلتے وقت اتنی شہوت ہوتی ہے ۔اس لئے ان دونوں کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہے صرف وضو واجب ہوگا(٢)حدیث میں ہے  عن علی ابن طالب ارسلنا المقداد بن الاسود الی رسول اللہ ۖ فسألہ عن المذی یخرج من الانسان کیف یفعل بہ؟ فقال رسول اللہ ۖ توضأ وانضح فرجک (مسلم شریف، باب المذی ص ١٤٣ نمبر ٦٩٧٣٠٣)(٢) سألت النبی ۖ عن المذی؟ فقال من المذی الوضوء ومن المنی الغسل(ترمذی شریف، باب ماجاء فی المنی والمذی ص ٣١ نمبر ١١٤ ابوداؤد شریف ،باب فی المذی ص ٣١ نمبر ٢٠٧)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مذی نکلے تو وضو واجب ہے غسل نہیں۔ 
ترجمہ:   ١   حضور ۖ  کے قو ل کی وجہ سے کہ ہر مرد کو مذی آتی ہے اور اس میں وضو ہے ۔حدیث یہ ہے عن عمہ عبد اللہ بن سعد الانصاری قال :سألت رسول اللہ  ۖ عما یوجب الغسل و عن الماء یکون بعد الماء ؟ فقال : ذالک المذی ،و کل فحل یمذی ،فتغسل من ذالک فرجک و أنثییک و توضأ وضوئک للصلاة۔(ابوداود شریف ،باب فی المذی ،ص ٣١ نمبر ٢١١ ) 
ترجمہ:  ٢  ودی گاڑھا پیشاب ہے جو پتلے پیشاب کے بعد نکلتا ہے اسلئے پیشاب ہی کا اعتبار کیا جائے گا   
 تشریح:  ودی  :  بھی مذی کی طرح ایک پانی ہے۔ بلکہ مذی میں تو تھوڑی شہوت ہوتی ہے ودی میں شہوت نہیں ہوتی وہ پیشاب کے بعد نکلتی ہے۔ اس لئے ودی میں وضو ہی واجب ہوگا۔اسکی تفسیر اس اثر میں ہے عن معمر عمن سمع عکرمة قال :ھی ثلاثة المذی ، والودی ، والمنی ،فاما المذی : فھو الذی یخرج اذا لاعب الرجل امرأتہ ففیہ غسل الفرج و الوضوء ،و اما الودی فھو الذی یکون مع البول و بعدہ فیہ غسل الفرج ،والوضوء ایضاً،واما المنی فھو الماء الدافق الذی یکون فیہ الشھوة و منہ یکون الولد ففیہ الغسل ۔( مصنف عبد الرزاق ۔باب المذی ،ج اول ،ص ١٥٩،نمبر ٦١١ ) اس اثر میں تینوں کی تفسیر ہے اور حکم بھی (٢)  اثر میں ہے ۔سمعت ابن عباس یقول : المنی و الودی و المذی ،أما المنی فھو الذی منہ الغسل ،و أما الودی و المذی فقال اغسل ذکرک أو مذاکیرک و توضأ وضوئک للصلاة  (سنن للبیھقی، باب المذی والودی لا یوجبان الغسل ،ج اول، ص٢٦٢،نمبر ٨٠٠طحاوی شریف، باب ا لرجل یخرج من ذکرہ المذی کیف یغسل ج اول ص ٣٩)اس اثر میں تینوں کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter