ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
(ب) تمام تاجروں کو بھی اِنکم ٹیکس کی چھوٹ دے دی جاتی کیونکہ یہ غیر اِسلامی ہے اَور کسٹم باقی اَور جاری رہتا یہ اِسلامی ہے اَور اُس کے قانون فقہ میں موجود ہیں اَور کسٹم ہی سے بیت المال کو زیادہ آمدنی ہے اِنکم ٹیکس سے آمدنی بھی بہت تھوڑی ہے ،درآمد و برآمد دونوں پر ڈیوٹی کے احکام موجود ہیں۔ (ج) اَور زمینوں کے بارے میں جمعیت علماء نے اپنے منشور میں مفصل اِصلاحات ذکر کی ہیں اس قسم کی اِصلاحات اَور جماعتوں نے بھی اپنے اپنے منشور میں کر رکھی ہیں یہ اِصلاحات سب جماعتوں کی قریب ہی قریب ہیں زمینوں اَور مزارع سب ہی کو اِن اِصلاحات سے فائدہ ہوتا۔ (د) سرکاری بالکل غیر آباد زمینیں آباد کاروں کی ملکیت بنا دی جاتیں۔ (ہ) خراجی زمینوں سے خراج وغیرہ بیت المال کی آمدنی کی مدّات میں ہوتا جو حکومت کے کاموں میںصَرف ہوتا جس طرح عشر غرباء پر صَرف کے لیے ہوتا ہے۔ (و) ناداروں اَز کار رفتہ ضعیفوں اَور بوڑھوں کا وظیفہ بیت المال سے جاری ہوتا چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی بوڑھے کو مانگتا دیکھا دریافت کیا کہ ایسا کیوں کرتے ہو؟ اُس نے ضعیفی اَور ناداری کا عذر کیا۔ آپ نے حکم فرمایا کہ اِس جیسے اَور سب لوگوں کو بھی تلاش کرو اَور اُن سب کا وظیفہ بیت المال سے جاری کر دیا۔ فرمایا کہ قرآن پاک میں ہے : اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَائِ وَ الْمَسَاکِیْنِ ، فقراء تو مسلمان محتاج لوگ ہیں، اور یہ اہل کتاب میں ہے یہ مساکین میں داخل ہے۔ غرض اِسلامی نظامِ عدل اَور اِقتصادی نظام وہی ہے جس کی آج ہر اِنقلابی شخص تمنا کر رہا ہے کہ وہ برپا ہو یہ اَلگ بات ہے کہ دینی معلومات عام نہ ہونے کی وجہ سے اُسے خبر نہ ہو کہ ہمیں اِسلامی نظام میں یہ خود بخود لازماً اَور دائمی طور پر ملے گا۔ اَنگریزی دورِ اِقتدار نے جو دین سے نا واقفیت پیدا کی تھی وہ حجاب بنی چلی آ رہی ہے۔ خیر موجودہ حکومت تو اِسلامی نظام لانے میں بری طرح ناکام رہی ہے اِس لیے میں ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں سے اپنی تحریرات میں اپیل کرتا رہا ہوں کہ وہ اپنے اپنے دستور میں اِتنی عبارت کا صدقِ دل اَور عزمِ صمیم سے اِضافہ کر لیں کہ '' ہم جب برسر اِقتدار آئیں گے تو ہمارے دَور میںعدلیہ آزاد اَور بالا دست ہو گی قانون حنفی ہو گا پرسنل لاء فقہ جعفری ہو گا۔''