ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
اكستان |
|
اگر میری آواز کسی طرح اُن تک پہنچ گئی تو اُمید ہے کہ وہ جماعتیں جنہوں نے ٧٣ء کے آئین پر دستخط کیے ہیں وہ تو اِسے قبول کرنے میں تأمل نہ کریں گی اَور اِس تجویز کی منظوری کا اعلان بھی کر دیں گی تا کہ اُن کی موجودہ جدوجہد حکومت ِاِلہیہ نظام مصطفی اِسلامی نظام (غرض جو نام بھی لے لیا جائے) کے قیام کے لیے ہو جائے اِسی میں ملک کی سلامتی بھی ہے اَور اِسی میں عوام اَور اُن لوگوں کا جنہیں کمزور عوام (قرآن پاک میں مسستضعفین) کہا گیا ہے پائیدار نفع ہے۔ لیکن سب قائدین زیر حراست ہیں اُن تک میری آواز خدا پہنچائے اَور اُنہیں یہ تجویز قبول کرنے اَور اِس کے اعلان کی توفیق بخشے تا کہ ہمارے اَور اُن کے لیے اِس کا ثواب صدقہ جاریہ بنے، آمین۔ جس طرح موجودہ حکومت پر میرے نمبر ٨ (ج) میں لکھی ہوئی چیزوں پر شرعًا عمل کرنا فرض تھا اَور ہے اِسی طرح سابق حکمران جماعت پیپلزپارٹی پر بھی اِس کا ماننا فرض ہے کیونکہ ٧٣ء کا آئین اُس نے اپنے دور میں بنایا ہے جس میں اِسلامی نظام لانے کا عرصہ بھی مقرر کیا ہے اَور اُسی نے اِسلام کی اِقتصادی اِصلاحات (اِسلامی سوشلزم) کا نعرہ لگایا تھا اِس لیے اُس پر اِس تجویز کا خیر مقدم کرنا اِسی طرح فرض ہے جس طرح اِس موجودہ حکومت پر۔ آپ کے تمام سوالات کا جواب بھی بحمد اللہ لکھا گیا اَور آخر میں کچھ اَور بھی ضروری باتیں آ گئیں آپ کا اِصرار تھا کہ میں ضرور ہی اِستفتاء کا جواب لکھوں۔ اَب عریضہ ختم کرتا ہوں اپنے علم و دَانست کے مطابق میرا یہی جواب ہے اَور یہی فتوٰی ہے۔ واللہ اعلم۔ و صلی اﷲ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین دُعائوںکا خواستگارسید حامد میاں١٦ ذوالحجہ ١٤٠٣ھ/٢٤ستمبر ١٩٨٣ئ نا المصدق لجواب صحیح حمد شاہ اَمروٹیاَ میر حسین گیلانی بقلم خود مولانا سیّد محمد شاہ صاحب اَمروٹی مدظلہم ) (مولانا سید اَمیر حسین شاہ صاحب گیلانی مد ظلہم)