ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
اكستان |
|
جواب : (الف) اِس کا جواب یہ ہے کہ اِسلامی نظام نافذ کر دیا جائے اُس کے سوا کوئی نظام اَور کوئی تدبیر ایسی کارگر اَور مؤثر نہیں ہے اِسلامی نظام کے تحت معاشرتی معاشی (اِقتصادیات) مالیات سب کی اِصلاح ہو گی قانون بدل جائے گا فوج کا بھی اَور سول کا بھی ،وغیرہ۔ (ب) اَوّل تو جنرل صاحب اِسلامی نظام سے واقف نہیں ہیں اَور جو واقف نہ ہو وہ اُس نظام کو نہیں لاسکتا ورنہ چند ہفتوں کا کام تھا یہ نظام تبدیل ہو جاتا نیز میں اَب تو یہ تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں کہ جنرل صاحب سچے دِل سے نظامِ اِسلام لانا چاہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ صرف اِسلام کا نام استعمال کر رہے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ اُنہوں نے اِسلامی قوانین کو سب سے نیچے درجہ دیا اِس سے اُوپر انگریزی قانون کو مقام دیا اَور اُس سے اُوپر مارشل لاء کو، اگر وہ اِسلامی نظام کے دِل سے خواہشمند ہوتے تو اِسلامی نظام کو سب سے اعلیٰ مقام دیتے۔ اگر خدا نے معاف نہ کیا تو خدا کے یہاں اُن سے دین کے ساتھ اِس مذاق و استخفاف پر سخت محاسبہ ہو سکتا ہے ،چھ سال کے مشاہدات نے ہمیں مایوس کر دیا ہے اِس لیے ہم اُن سے دُور ہیں۔ (ج) ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح پاکستان کا مذہب متعین ہے کہ اِسلام ہو گا وہ آ کر پاکستان کا مسلک بھی متعین کر دیتے کہ حنفی مسلک ہو گا اِس طرح یہ نتیجہ فورًا ہی برآمد ہوتا کہ ٭فوج میں اَنگریز کا بنایا ہوا فوجی قانون (مارشل لائ) منسوخ ہو جاتا اُس کی جگہ اِسلام کا حنفی قانون جو موجود ہے نافذ کر دیا جاتا ٭ سول عدالتوں میں اَنگریز کا دِیا ہوا دِیوانی اَور فوجداری قانون منسوخ ہو جاتا اُس کی جگہ حنفی قانون آ جاتا ٭ شیعہ اَقلیت کے لیے فقہ جعفری کی اِجازت دے دی جاتی ٭ عدالتوں کی بالادستی تسلیم کرا دی جاتی۔ اِس کام میں حکومت کو بہت سے بہت اِسلامی قضاء کی کتابوں کے ترجمے کرا کے عدلیہ کو مہیا کرنے ہوتے اَور علماء کو اُن کی مدد کے لیے اُن کے ساتھ بٹھانا ہوتا یہ حکومت کے لیے چند ماہ سے زیادہ کا کام نہیں ہو سکتا تھا۔ ٭ اِس سے فوری طور پر جو فوائد رُونما ہوتے اُن سے پوری قوم مطمئن ہوتی کیونکہ اِس کا اَثر اِقتصادیات پر فورًا ہی پڑتا مثلاً یہ کہ (الف) تمام ایسے بڑے کارخانے کہ جن کے قیام میں اسٹیٹ بینک (بیت المال یعنی بیت مالِ المسلمین) زیرِ بار ہوتا ہے اُن سب کی آمدنی اسٹیٹ بینک کی ملکیت ہوتی اَور کارخانے دار کا یا حصہ ہوتا یا بیت المال سے اُس کا وظیفہ مقرر کر دیا جاتا کیونکہ ایسے بڑے کارخانوں کا بار بواسطہ بیت المال پوری قوم پر پڑتا ہے اِس لیے وہ کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں ہو سکتے۔