ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2010 |
اكستان |
|
کلمات واضح ہیں اَور ہمارے آئین میں ہیں جو شخص یہ کلمات کہے اُسے پھر قادیانی نہیں کہا جا سکتا اَور چونکہ جس پر شبہ کیا جاتا ہے تو کچھ قرائن کی بنا ء پر ہی کیاجاتا ہے اِس لیے اُسے صاف ہی اِلفاظ سے اپنی صفائی کرنی چاہیے اَور اُن قرائن کی بھی صفائی بیان کر دینی چاہیے جن کی وجہ سے لوگوں کو شبہ پیدا ہوا ہو ۔ (7) آپ نے سوال کیا ہے کہ مارشل لاء میں خرابی کیا ہے؟ جواب : (الف ) اِس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے سوال نمبر ا سے ٥ تک کے جوابات ملاحظہ فرما لیے ہیں خود ہی غور فرما لیں کہ یہ شرعی غلطیاں پائی جا رہی ہیں یا نہیں۔ (ب) ایک بڑی خرابی جو ملک کا بہت ہی بڑا نقصان ہے یہ ہے کہ فوج کے حکام تک عوام کی رسائی نہیں ہے اَور اُن کے فیصلوں کا اَور سب معاملات کا اَندازہ تحکمانہ ہے جس سے عوام کو یہ محسو س ہوتا ہے جیسے کوئی غیر ملکی طاقت جو بے رحم اَور اَجنبی ہے سر پر سوار ہو گئی ہے جیسے پہلے اَنگریز سوار تھا۔ آپ ہی بتلائیں کہ اگر عوام کے ذہن میں یہ بات آجائے تو اُن کی ہمدردیاں فوج کے ساتھ کہاں رہ سکتی ہیںاَور فوج بغیر عوام کی طاقت کے کسی بیرونی ملک کے حملہ کے جواب میں بغیر عوام کی بھرپور حمایت کے کیسے کامیاب ہو سکتی ہے گویا مارشل لاء کی در ازی فوج کو ایک طبقہ کا رُوپ دے رہی ہے وہ یہی اعلان بھی کر رہی ہے کہ ہم ایک طبقہ ہیں اِس طرح دُوسرا طبقہ عوام ہوگئے اَور اُن میں اِختلاف طبقاتی اِختلاف اَور طبقاتی سرد جنگ کا پیش خیمہ ہو گا جبکہ اُنہیں اِس اِختلاف سے بالا اَور سب عوام کا محبوب ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہ ہمارے ہی بھائی بند ہیں۔ (ج) حکومت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ رِشوت کا ریٹ بڑھ گیا ہے ،پانچ سے پچاس ہو گیا ہے اَور ظاہر ہے کہ اِس کی وجہ مارشل لاء ہے یعنی فوج کا سول علاقوں میں آ جانا اِس کا سبب کا بنا ہے۔ فوج کے آدمی فرشتے نہیں ہیں جب وہ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے تو اُن کا ذہن لڑنے کے کام کا نہیں رہے گا حالانکہ قوم کا روپیہ دفاع ہی پر سب سے زیادہ خرچ ہو رہا ہے ۔اللہ رحم فرمائے آپ کی کسی ذریعہ اگر بڑے صاحب تک رسائی ہو تو اُنہیں سمجھائیں عرض معروض کریں ۔ ع شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات (8) آپ نے پوچھا ہے کہ ملک کی خرابیوں کا کیا علاج ہے۔ جنرل صاحب اِسلامی نظام لا رہے ہیںآپ اُن سے کیوں دُور ہیں؟