ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
اكستان |
|
اُٹھے تھے کہ نیچے گر گئے، اِس حالت میں مرزا قادیانی مرا۔ مرا لاہور میں، دفن ہوا قادیان میں۔ یہ سینئر قادیانی کا مختصر تعارف تھا۔ اَب حال ہی میں ایک اَور جونئیر مرزا غلام احمدقادیانی نے خروج کیا ہے۔ یہ سینئر مرزا غلام احمد قادیانی کا پڑ پوتا ہے۔ اِس کا نام بھی جو نیئر مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ ٢٨ مئی ٢٠١٠ ء کو لاہور میں قادیانی مراکز پر حملہ ہوا جسے خود حکومتی حلقوں نے دہشت گردی قرار دیا، ملزم گرفتار بھی ہوئے، اِن سے باز پرس جاری ہے۔ خدا کرے حکومت ملزمان سے حاصل کردہ معلوما ت کی روشنی میں سازش کو بے نقاب کرے تاکہ دُودھ کا دُودھ اَور پانی کا پانی ہوجائے۔ امتناعِ قادیانیت آر ڈیننس، تحفظ نامو سِ رسالت قانون کو ختم کرنے کے لیے قادیانی لابی مدت سے لابنگ کر رہی ہے۔ بعض مقامات پر خود ساختہ مظلومیت کے نام پر اِس نے یورپی ممالک سے سیاسی پناہ کے نام پر وِیزے بھی حاصل کیے۔ اَب قادیانی جماعت نے نام نہاد مظلومیت کے نام پر اپنے کارو بار کو مندے میں مبتلا ہوتے دیکھا تو اِس وقوعہ کو تخلیق کیا گیا۔ گڑھی شاہو میں جو نیئر مرزا غلام احمد قادیانی نے جو پاکستان میں قادیانی جماعت کا ڈائریکٹر بھی ہے، گویا یہ سہ آ تشہ ہے : (١) قادیانی مغل فیملی کافرد ہے یعنی مغل بچہ ہے۔ (٢) قادیانی جماعت پاکستان کا ڈائریکٹر ہے۔ (٣) نام بھی خیر سے مرزاغلام احمد قادیانی ہے۔ اُس نے پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے چند نکات اُٹھائے۔ آج کی مجلس میں اُنہیں زیرِ بحث لانا مطلوب ہے۔ جونیئر مرزا غلام احمد قادیانی نے جو سوالات اُٹھائے ہیں وہ یہ ہیں : سوال نمبر١ : ہم قرآن کو آخری کتاب اَور رسول اللہ ۖ کو آخری نبی مانتے ہیں اَور قرآن و حدیث پر عمل کو فرض سمجھتے ہیں۔ جواب : مرزا غلام احمد قادیانی کے اِن حوالہ جات پر توجہ فرمائی جائے : (١) ''میں اللہ تعالیٰ کی وحی سے جو سنتا ہوں اُسے تمام خطاؤں سے پاک جانتا ہوں، قرآن کی طرح تمام خطاؤں سے میری وحی پاک ہے، یہ میرا ایمان ہے۔'' (نزول المسیح ص ٩٩ ،