ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
جس شخص نے کہا ہے بالکل صحیح کہا ہے''یہی ہیں'' پھر شیخ نے یہ چاروں شعر نقل فرمائے ہیں۔ (ماخوز اَز موت کی یاد ص ٣ ناشر شاہین ٹریڈ نگ کمپنی کراچی) حضرت مولانا شمس الحق صاحب افغانی رحمة اللہ علیہ حضرت مولانا شاہ اَشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے بیعت تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے پھر دارُالعلوم میں شیخ التفسیر رہے پھر جامعہ اِسلامیہ ڈابھیل میں شیخ الحدیث رہے پھر ریاستہائے متحدہ بلوچستان میں وزیرِ معارف ِشرعیہ رہے پھر چند سال جامعہ اِسلامیہ بہاولپور میں شیخ التفسیر رہے۔ وسیع الاطلاع اَور دقیق النظر تھے۔ دیوبند میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ کے فتاوی پر نظر ثانی کی اہم ذمہ داری بھی قیام ِ دیوبند کے دوران آپ کو تفویض کی گئی تھی۔ تحریر ، تقریر، تدریس سب میں بلند پایہ تھے۔ اِنہوں نے علامہ کے تین اَشعار کا جواب تین ہی اَشعار میں لکھا ۔ ایک دفعہ یہ اَشعار میں نے سنے تو فرمائش کی کہ یہ اَشعار مع شرح تحریر فرمادیں تو اُنہوں نے ٢١ شوال ١٣٧٨ھ کو یہ اَشعار لکھ کر اِرسال فرمائے اَور شرح ٢٨ ذیقعدہ ١٣٧٨ھ کو اِرسال فرمائی نظامِ قوم بدو گونہ می شود پیدا اگر ہنوز ندانی کمالِ بولہبی ست نظامِ ملتِ واحد باختلافِ بِلاد قوام گیر زجذب محمد عربی ست نظامِ دوم کہ قائم میانِ صد ملل سست نظامِ وحدت ملکی ست ایں چہ بوالعجبی ست یعنی قومیت کے دو قسمیں ہیں: اَوّل یہ کہ اَفراد کا دین ایک ہو اگرچہ اَوطان مختلف ہوں جیسے کہ اِسلامی قومیت کے تحت تمام مسلمان ایک قوم ہیں اگرچہ وطن مختلف ہیں۔ دوم یہ کہ وطن اَور وطنی مفاد ایک ہوںاگرچہ دین مختلف ہوں جیسے کہ مکہ معظمہ میں قریش کی قوم ایک تھی اگرچہ دین مختلف تھا۔ اَور مدینہ منورہ میں مہاجرین ،اَنصار اَور یہود کا وطن ایک تھا اگرچہ اُن کا دین ایک نہ تھا، اِسی بنا ء پر حضور علیہ السلام نے یہود کے ساتھ وطنی مدافعت کے تحت ایک معاہدہ کیا تھا کہ جب مدینہ پر کوئی حملہ آور ہو تو سب مل کر مقابلہ کریں۔ حضرت مولانا مدنی رحمة اللہ علیہ نے اگر دہلی والی تقریر میں قسم دوم کا ذکر کیا ہے