ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کے اِس تعارف کے بعد گزشتہ سلسلۂ کلام کے تکملہ کے لیے عرض کرتا ہوں کہ کانگریس کی تجاویز جمعیة کی تجاویز سے مختلف تھیں اَور وہ یہ ہیں : ہندوستان کی تقسیم ہندوستان کے ہر جزکے لیے تباہ کن ہے لہٰذا کانگریس ہندوستان کے اتحاد کی حامی ہے۔ کانگریس کی کوشش یہی رہے گی کہ تمام صوبے بِلاکسی جبر کے محض خوشی سے ایک مشترک مرکز بنائیں۔ اگر کسی صوبہ کی علانیہ مرضی اِس اِتحاد واِشتراک کے مخالف ہو اَوروہ اِس مشترک مرکز میں شریک نہ ہونا چاہے تو کانگریس اِس کو شرکت پر مجبور نہیں کرسکتی۔ جس قدر علاقے اِس مشترک مرکز میں شریک ہوں گے وہ پورے پورے خود مختار ہوں۔( توضیح تجاویز مؤلفہ مولانا سیّد محمد میاں صاحب ص ١٠ بحوالہ تیج مورخہ ١٣ اپریل ١٩٤٢ء نمبر ٩٩ ج ٢٠ نیز تیج مورخہ ١٠ اکتوبر ١٩٤٤ء نمبر٢٦٥ ج٢٣) مئی ١٩٤٢ء میں آل اِنڈیا کانگریس کمیٹی کے اِجلاس میں نمبر ٣ مشترک مرکز سے علیحدگی کے خلاف جگت زائن نے آواز اُٹھائی۔ ٦ اگست ١٩٤٢ء کو کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کابمبئی میں اِجلاس ہوا اِس میں طویل ریزو لیوشن پاس ہوا جس میں یہ بھی ہے '' کانگریس کے نظریہ کے مطابق یہ آئین فیڈرل ہونا چاہیے اَور اِس فیڈریشن میں شریک ہونے والی یونٹوں کے لیے زیادہ سے زیادہ آزاد ی ہونی چاہیے اَور اِختیارات ما بقی اِن ہی یونٹوں کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔'' اِسی اِجلاس میں ایسے عالمگیر فیڈریشن کی تجویز بھی کی گئی تھی جس کے بعد ہر ملک کے لیے ترکِ اسلحہ قابل ِعمل ہوگا اَور عالمگیر فیڈرل فوج کے ذمہ دُنیا کا اَمن قائم رکھنا ہوگا۔ (توضیح تجاویز ص ١٣ و ص ١٤ بحوالہ تیج مورخہ ٨ اگست ١٩٤٢ ء نمبر ٢١٦ ج ٢١ ) اِس سے اگلے دِن کانگریس ورکنگ کمیٹی کے تمام اَرکان گرفتار کر لیے گئے ملک بھر میں گرفتاریاں اَور بلوے شروع ہوگئے۔